خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 396
$2004 396 خطبات مسرور بے تکلف ہوں، کئی دفعہ پہلے بھی میں اس بارے میں کہہ چکا ہوں۔اکثر کہتا رہتا ہوں کہ اس مغربی معاشرے میں بلکہ آجکل تو مغرب کا اثر ، دجالی قوتوں کا اثر ، شیطان کے حملوں کا اثر ، رابطوں میں آسانی یا سہولت کی وجہ سے ہر جگہ ہو چکا ہے، تو میں یہ کہ رہا ہوں شیطان کے ان حملوں کا مقابلہ کر نے کے لئے والدین کو اپنے بچوں سے ایک دوستانہ ماحول پیدا کرنا ہوگا اور پیدا کرنا چاہئے خاص طور پر ان ملکوں میں جو نئے آنے والے ہوتے ہیں۔وہ شروع میں تو نرمی دکھاتے ہیں اس کے بعد زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔وہ تصور نہیں ہے کہ بچوں سے بھی دوستی پیدا کی جاسکتی ہے تو ان کو پھر یہ احساس دلانا چاہئے یہ ماحول پیدا کر کے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔بچے کو بچپن سے پتہ لگے پھر جوانی میں پتہ لگے۔ایک عمر میں آکے والدین خود بچوں سے باتیں کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔یہ بھی غلط ہے۔ان کو دین کی طرف لانے کے لئے ، دین کی اہمیت ان کے دلوں میں پیدا کرنے کے لئے انہیں خدا سے ایک تعلق پیدا کروانا ہوگا۔اس کیلئے والدین کو دعاؤں کے ساتھ ساتھ بڑی کوشش کرنی چاہئے۔اور اس وقت تک یہ کام نہیں ہوگا جب تک والدین کا شمار خودصادقوں میں نہ ہو۔پھر یہ بھی نظر رکھنی چاہئے کہ بچوں کے دوست کون ہیں بچوں کے دوستوں کا بھی پتہ ہونا چاہئے۔یہ مثال تو ابھی آپ نے سن ہی لی۔اس سیٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے ہی صرف اس طالبعلم پر دہریت کا اثر ہورہا تھا۔لیکن یہ مثالیں کئی دفعہ پیش کرنے کے باوجود، کئی دفعہ سمجھانے کے باوجود، ابھی بھی والدین کی یہ شکایات ملتی رہتی ہیں کہ انہوں نے سختی کر کے یا پھر بالکل دوسری طرف جا کر غلط حمایت کر کے بچوں کو بگاڑ دیا۔ایک بچہ جو پندرہ سولہ سال کی عمر تک بڑا اچھا ہوتا ہے جماعت سے بھی تعلق ہوتا ہے، نظام سے بھی تعلق ہوتا ہے، اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں بھی حصہ لے رہا ہوتا ہے۔جب وہ پندرہ سولہ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو پھر ایک دم پیچھے ہٹنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ہلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایسی بھی شکایتیں آئیں کہ ایسے بچے ماں باپ سے بھی علیحدہ ہو گئے۔اور پھر