خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 384
$2004 384 خطبات مسرور 66 غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہو جاتا ہے۔بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔ایک شخص علی گڑھی غالباً تحصیل دار تھا میں نے اس کو کچھ نصیحت کی۔وہ مجھ سے ٹھٹھا کرنے لگا۔میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے کا۔آخر باتیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آ گیا کہ وہ یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھا یا چنیں مار مار کر رونے لگا۔بعض اوقات سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہے، یعنی ظالم ہے سنگدل ہے تو یاد رکھو ہر قفل کے لئے ایک کلید ہے۔ایک چابی ہے۔’بات کے لئے بھی ایک چابی ہے۔وہ مناسب طرز ہے۔پھر آپ دواؤں کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی مریض کو کوئی دوا مفید ہوتی ہے اور کسی کو کوئی تو اس لحاظ سے دوائی بھی دینی چاہئے۔پھر فرمایا ” ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرائے میں خاص شخص کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔بیان کرنے والے کو چاہئے کہ کسی کے برا کہنے کو برا نہ منائے بلکہ اپنا کام کئے جائے اور تھکے نہیں۔امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل بھی ہوتے ہیں۔بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے۔انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کرنی چاہئے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه ٤٤١ بدر ۱۳ فروری ۱۹۰۸ء) پھر تبلیغ کرنے والوں کے لئے ایک اور نسخہ بیان فرمایا کہ اس کام کے واسطے وہ آدمی موزوں ہوں گے جو کہ مَنْ يَتَقِ وَ يَصْبِرْ کے مصداق ہوں۔ان میں تقویٰ کی خوبی بھی ہو اور صبر بھی ہو۔پاکدامن ہوں فسق و فجور سے بچنے والے ہوں ، معاصی سے دور رہنے والے ہوں لیکن ساتھ ہی مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں۔لوگوں کی دشنام دہی پر جوش میں نہ آئیں۔ہر طرح کی تکلیف اور دکھ کو برداشت کر کے صبر کریں۔کوئی مارے بھی تو مقابلہ نہ کریں جس سے فتنہ وفساد ہو جائے۔دشمن جب گفتگو میں مقابلہ کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اسے جوش دلانے والے کلمات بولے جس سے فریق مخالف صبر سے باہر ہو کر اس کے ساتھ آمادہ بہ جنگ ہو جائے“۔(یعنی لڑائی کی صورت پیدا ہو جائے ) (ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۱۸- بدر ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ء)