خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 382

$2004 382 خطبات مسرور ہماری بات کیسے سنیں گے۔پہلے تو بات یہ ہے کہ ان کو مذہب پر یقین پیدا کروانا ہوگا ، پہلے ان کو خدا کی پہچان کروانی ہوگی۔جب اس طرز پر باتیں ہوں گی تو نہ صرف ایک شخص جس کو آپ تبلیغ کر رہے ہیں اس پر اثر ہوگا بلکہ ماحول پر بھی اثر ہورہا ہوگا۔اور ماحول میں بھی یہ اظہار ہورہا ہوگا کہ شیخص خدا کا خوف رکھنے والا ہے اور خدا کی خاطر ہر کام کرنے والا ہے اور خدا کی خاطر خدا کی طرف بلانے والا ہے۔اس میں ایک درد ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندے اس کے آگے جھکیں اور یہ کسی ذاتی مفاد کے لئے کام نہیں کر رہا۔اس بات سے کہ جو کچھ بھی ہے خدا تعالیٰ کی خاطر ہے اس کا ماحول پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے اور دعوت الی اللہ کے اور بھی مواقع میسر آ جاتے ہیں اور اس میں مزید آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے لوگ مخالفین سے سختی سے پیش نہ آیا کریں۔ان کی درشتی کا نرمی سے جواب دیں اور ملاطفت سے سلوک کریں۔چونکہ یہ خیالات مدت مدید سے ان کے دلوں میں ہیں رفتہ رفتہ ہی دور ہوں گے۔اس لئے نرمی سے کام لیں۔اگر وہ سخت مخالفت کریں تو اعراض کریں۔مگر اس بات کے لئے اپنے اندر قوت جاذ بہ پیدا کرو اور قوت جاذ بہ اس وقت پیدا ہوگی جب تم صادق مومن بنو گے“۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ۱۷۹ الحکم ۱۰ تا ۱۷ نومبر ١٩٠٤) اپنی طرف کھینچنے کے لئے ، ایک کشش پیدا کرنے کے لئے کہ لوگ آپ کی طرف کھینچے چلے آئیں فرمایا کہ سچے مومن بنو گے جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیئے ہیں ان کو بجالانے کی کوشش کرو گے تب اللہ تعالیٰ کی مددبھی شامل حال رہے گی اور لوگوں پر بھی اثر ہوگا۔اب دیکھیں کہ عیسائی پادری تبلیغ کرتے ہیں اکثر و بیشتر ایسے ہمدرد بن کے اپنی طرف مائل کر رہے ہوتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی طرف رجحان ہو جاتا ہے۔خاص طور پر افریقہ میں بڑی ہمدردی سے لوگوں کے ساتھ پیش آ رہے ہوتے ہیں۔دل میں جو مرضی ہو یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن ظاہری طور پر گاؤں میں جا کے ہمدردی کر رہے ہوتے ہیں، ان کی ضروریات کو پورا کر رہے ہوتے ہیں، ان کو پیغام پہنچارہے ہوتے ہیں۔اور یہ