خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 369
$2004 369 خطبات مسرور عام کی شرح 1/16 اس وقت سے قائم ہے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ارشاد سے استنباط کر کے یہ شرح مقرر کی تھی۔تو بہر حال جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ماہوار چندے کے علاوہ اپنی وسعت کے لحاظ سے اکٹھی رقم بھی تم دے سکتے ہو اور اس کے لئے جماعت میں مختلف تحریکات ہوتی رہتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا، پہلے بھی کہا ہے کہ اس نیت سے اور اس ارادے سے ہر ادا ئیگی، ہر چندہ اور ہر وعدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے نہ کہ کسی بناوٹ کی وجہ سے۔اور ہمیشہ جب بھی خرچ کریں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ہر نئی تحریک میں حصہ لینے کی توفیق دی یا فرض ماہوار چندہ کو ادا کرنے کی توفیق دی ، بجٹ پورا کرنے کی توفیق دی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا تعالیٰ سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔یعنی جو اس نیت سے چھوڑتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے وہ اپنا نہیں سمجھتا۔اب 1/16 جو چندہ ہے جو یہ سمجھے میری آمد میں سے 15 حصے تو میرے ہیں یہ 16 واں حصہ خدا تعالیٰ کا ہے تو آپ فرماتے ہیں وہ ضرور اس سے حصہ پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا“۔یعنی ایک احمدی ہونے کے بعد پھر اگر ایسی سوچ ہوگی تو آپ فرماتے ہیں اس کا مال ضائع بھی ہوگا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف