خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 365
$2004 365 خطبات مسرور ایک مسجد کا مکمل خرچ ادا کریں گے۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانی کا معیار بہت اعلیٰ ہے، بہت سے ایسے ہیں جو بعض اوقات اپنے اوپر بوجھ بھی ڈال کے چندے ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔کیونکہ میں آج لازمی چندہ جات کی بات کر رہا ہوں اس لئے یہ واضح کر دوں کہ یہ جو چندہ جات ہیں ان تحریکات کی ادائیگیوں کا اثر آپ کے لازمی چندہ جات پر نہیں ہونا چاہئے۔وہ اپنی جگہ ادا کریں اور یہ زائد تحریکات کے وعدوں کو اپنی جگہ ادا کریں۔اور پھر اللہ تعالیٰ بھی آپ پر انشاء اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل فرمائے گا۔کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں ، اس کے دین کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لئے کس قدر خوشخبری فرمائی ہے۔ہر خوف خدا رکھنے والے کو اپنی عاقبت کی عموماً فکر ہوتی ہے کہ پتہ نہیں نہ جانے کیا سلوک ہوگا۔تو آپ نے چندہ ادا کرنے والوں کو اس فکر سے آزاد کر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہیں گئے۔(مسند احمد بن حنبل )۔یعنی کہ جو بھی آپ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں گے قیامت کے دن تک اس کے سائے میں آپ رہیں گے۔لیکن یہ بھی دوسری جگہ فرما دیا کہ انفاق سبیل اللہ دکھاوے کے لئے نہ ہو بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کا پیار حاصل کرنے کی خاطر ہی قربانیوں کی توفیق دے۔ایک اہم چندہ جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ زکوۃ ہے۔زکوۃ کا بھی ایک نصاب ہے اور معین شرح ہے عموماً اس طرف توجہ کم ہوتی ہے۔زمینداروں کے لئے بھی جو کسی قسم کا ٹیکس نہیں دے رہے ہوتے ان پر زکوۃ واجب ہے۔اسی طرح جنہوں نے جانور وغیرہ بھیڑ،