خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 32
$2004 32 خطبات مسرور منشی اروڑا صاحب چھ ماہ تک مجھ سے ناراض رہے۔اللہ! اللہ ! یہ وہ فدائی لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود مہدی معہود کو عطا ہوئے۔ذرا غور فرمائیں کہ حضرت صاحب جماعت سے امداد طلب فرماتے ہیں مگر ایک اکیلا شخص اور غریب شخص اٹھتا ہے اور جماعت سے ذکر کر نے کے بغیر اپنی بیوی کا زیور فروخت کر کے اس رقم کو پورا کر دیتا ہے۔اور پھر حضرت صاحب کے سامنے رقم پیش کرتے ہوئے یہ ذکر نہیں کرتا کہ یہ رقم میں دے رہا ہوں یا کہ جماعت۔تا کہ حضرت صاحب کی دعا ساری جماعت کو پہنچے۔اور اس کے مقابل پر دوسرا فدائی یہ معلوم کر کے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور میں اس خدمت سے محروم رہا۔ایسا بیچ وتاب کھاتا ہے کہ اپنے دوست سے چھ ماہ تک ناراض رہتا ہے کہ تم نے حضرت صاحب کی اس ضرورت کا مجھ سے ذکر کیوں نہیں کیا۔(الفضل ٤ ستمبر ١٩١٤ء بحواله اصحاب احمد روایات حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تهلوی صفحه ٦٢،٦١) اب کوئی دنیا دار ہو تو اس بات پر ناراض ہو جائے کہ تم روز روز مجھ سے پیسے مانگنے آجاتے ہو۔لیکن یہاں جنہوں نے اگلے جہان کے لئے اور اپنی نسلوں کی بہتری کے سودے کرنے ہیں ان کی سوچ ہی کچھ اور ہے۔اس بات پر نہیں ناراض ہو رہے کہ کیوں پیسے مانگ رہے ہو بلکہ اس بات پر ناراض ہورہے ہیں کہ مجھے قربانی کا موقع کیوں نہیں دیا۔پھر ایک واقعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چوہدری رستم علی صاحب آف مدار ضلع جالندھر کے بارہ میں کہ وہ کورٹ انسپکٹر تھے ان کی ۸۰ روپے تنخواہ تھی۔حضرت صاحب کو خاص ضرورت دینی تھی۔آپ نے ان کو خط لکھا کہ یہ خاص وقت ہے اور چندے کی ضرورت ہے۔انہی دنوں گورنمنٹ نے حکم جاری کیا کہ جو کورٹ انسپکٹر ہیں وہ انسپکٹر کر دئے جائیں۔جس پر ان کو نیا گریڈ مل گیا اور جھٹ ان کے ۸۰ روپے سے ۱۸۰ روپے ہو گئے۔اس پر انہوں نے حضرت صاحب کو لکھا کہ ادھر آپ کا خط آیا اور اُدھر ۱۸۰ روپے ہو گئے۔اس لئے یہ اوپر کے سوروپے میرے نہیں ہیں، یہ حضرت صاحب کے طفیل ملے ہیں اس واسطے وہ ہمیشہ سور و پیہ علیحدہ بھیجا کرتے تھے۔( روزنامه الفضل-۱۵ مئی ۱۹۲۲ء صفحه ۲)