خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 345

$2004 345 خطبات مسرور آپ نے تحریک جدید کا قیام کیا اور پھر بیرون ممالک میں مشن قائم ہوئے۔پھر وقف جدید کا قیام ہے جو پاکستان اور ہندوستان کی دیہاتی جماعتوں میں تبلیغ کے لئے تھا۔اب تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں پھیل گئی۔غرضیکہ اتنے کام ہوئے ہیں اور اس شخص کو جس کو اپنے زعم میں بڑے پڑھے لکھے اور عقلمند اور جماعت کو چلانے کا دعویٰ کرنے والے سمجھتے تھے کہ یہ بچہ ہے اس کے ہاتھ میں خلافت کی باگ ڈور ہے اور یہ کچھ نہیں کر سکتا اسی بچے نے دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔اور تمام دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو بھی پورے کرنے والے ہو گئے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ: جو خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کل خیالات کو یکجا جمع کرنا ہے۔اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے۔ممکن ہے کسی ایک بات میں دوسرا شخص اس سے بڑھ کر ہو۔ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کے لئے صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ پڑھا تا اچھا ہے کہ نہیں یا اعلیٰ ڈگری پاس ہے یا نہیں۔ممکن ہے کہ اس کے ماتحت اس سے بھی اعلی ڈگری یافتہ ہوں۔اس نے انتظام کرنا ہے، افسروں سے معاملہ کرنا ہے، ماتختوں سے سلوک کرنا ہے یہ سب باتیں اس میں دیکھی جاویں گی۔اسی طرح سے خدا کی طرف سے جو خلیفہ ہوگا اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے گا۔خالد بن ولید جیسی تلوار کس نے چلائی ؟ مگر خلیفہ ابوبکر ہوئے۔اگر آج کوئی کہتا ہے کہ یورپ میں میری قلم کی دھاک بچی ہوئی ہے تو وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خلیفہ وہی ہے جسے خدا نے بنایا۔خدا نے جس کو چن لیا اُس کو چن لیا۔خالد بن ولید نے 60 آدمیوں کے ہمراہ 60 ہزار آدمیوں پر فتح پائی۔عمر نے ایسا نہیں کیا۔(حضرت عمرؓ نے) مگر خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہوئے۔حضرت عثمان کے وقت میں بڑے جنگی سپہ سالار موجود تھے، ایک سے ایک بڑھ کر جنگی قابلیت رکھنے والا ان میں موجود تھا۔