خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 346
$2004 346 خطبات مسرور سارے جہان کو اس نے فتح کیا، مگر خلیفہ عثمان ہی ہوئے۔پھر کوئی تیز مزاج ہوتا ہے، کوئی نرم مزاج، کوئی متواضع ، کوئی منکسر المزاج ہوتے ہیں، ہر ایک کے ساتھ سلوک کرنا ہوتا ہے جس کو وہی سمجھتا ہے۔جس کو معاملات ایسے پیش آتے ہیں۔(خطبات محمود جلد٤ صفحه ٧٣،٧٢) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا تو اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکرلیں گی وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔خلافت حقه اسلامیه صفحه (۱۸ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جس بھی حکومت نے ٹکر لی اس کے اپنے ٹکڑے ہو گئے۔اور پھر خلافت رابعہ میں بھی یہی نظارے ہمیں نظر آئے۔ایک اور جگہ حضرت خلیفہ ثانی نے چھٹی ساتویں خلافت تک کا بھی ذکر کیا ہوا ہے۔تفصیل تو میں آگے بتاتا ہوں۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں کہ یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کے لئے قبول ہو گا۔یعنی انتخاب خلافت کمیٹی کے بارے میں۔اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہو گا اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا ، اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہوگا ، وہ بڑا ہو یا چھوٹا ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔(خطبه جمعه ٢٤ جنوری ١٩٣٦ء مندرجه الفضل ۳۱ / جنوری ١٩٣٦ء)