خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 344
344 $2004 خطبات مسرور احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی شان کے ساتھ پھر آگے قدم بڑھاتی ہوئی چلتی چلی گئی۔غرض کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور 52 سال رہا اور ہر روز ایک نئی ترقی لے کر آتا تھا۔کئی زبانوں میں آپ کے زمانے میں تراجم قرآن کریم ہوئے۔بیرونی دنیا میں مشن قائم ہوئے۔افریقہ میں ، یورپ میں مشنز قائم ہوئے اور بڑی ذاتی دلچسپی لے کر ذاتی ہدایات دے کر۔اس زمانے میں دفاتر کا بھی نظام اتنا نہیں تھا۔خود مبلغین کو براہ راست ہدایات دے دے کر اس نظام کو آگے بڑھایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہندو پاکستان میں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی اور خاص طور پر افریقہ میں لاکھوں کی تعداد میں سعید روحوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوئیں۔پھر دیکھیں آپ نے کس طرح انتظامی ڈھانچے بنائے۔صدرانجمن احمد یہ کا قیام تو پہلے ہی تھا اس میں تبدیلیاں کیں، ردو بدل کی۔اس کو اس طرح ڈھالا کہ انجمن اپنے آپ کو صرف انجمن ہی سمجھے اور کبھی خلافت کے لئے خطرہ نہ بن سکے۔پھر ذیلی تنظیموں کا قیام ہے، انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ، آپ کی دُور رس نظر نے دیکھ لیا کہ اگر میں اس طرح جماعت کی تربیت کروں گا کہ ہر عمر کے لوگوں کو ان کی ذمہ واری کا احساس دلا دوں اور وہ یہ سمجھنے لگیں کہ اب ہم ہی ہیں جنہوں نے جماعت کو سنبھالنا ہے اور ہر فتنے سے بچانا ہے۔اپنے اندر نیک تبدیلی اور پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے۔اگر یہ احساس پیدا ہو جائے قوم کے لوگوں میں تو پھر اس قوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو دیکھ لیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر ملک میں یہ ذیلی تنظیمیں قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے فعال ہیں اور آج جرمنی کی خدام الاحمدیہ بھی اسی سلسلے میں اپنا اجتماع کر رہی ہے۔تو یہ بھی ایک بہت بڑی انتظامی بات تھی جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت میں جاری فرمائی۔پھر تحریک جدید کا قیام ہے۔جب دشمن یہ کہہ رہا تھا کہ میں قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا اس وقت