خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 343

$2004 343 خطبات مسرور بشیرالدین محمود احمد کوہی جماعت خلیفہ منتخب کرے گی۔اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے ان شور مچانے والوں کو ، انجمن کے عمائدین کو یہ بھی کہ دیا کہ مجھے کوئی شوق نہیں خلیفہ بنے کا تم جس کے ہاتھ پر کہتے ہو میں بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔جماعت جس کو چنے گی میں اسی کو خلیفہ مان لوں گا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں کو پتہ تھا کہ اگر انتخاب خلافت ہوا تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی خلیفہ منتخب ہوں گے۔اس لئے وہ اس طرف نہیں آتے تھے اور یہی کہتے رہے کہ فی الحال خلیفہ کا انتخاب نہ کروایا جائے۔ایک، دو، چار دن کی بات نہیں ، چند مہینوں کے لئے اس کو آگے ٹال دیا جائے ، آگے کر دیا جائے اور یہ بات کسی طرح بھی جماعت کو قابل قبول نہ تھی۔جماعت تو ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونا چاہتی تھی۔آخر جماعت نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد کوخلیفہ منتخب کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اور اس وقت بھی مخالفین کا یہ خیال تھا کہ جماعت کے کیونکہ پڑھے لکھے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور خزانہ ہمارے پاس ہے اس لئے چند دنوں بعد ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ رکھا اور خوف کی حالت کو پھر امن میں بدل دیا اور دشمنوں کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں۔پھر خلافت ثانیہ میں 1934ء میں ایک فتنہ اٹھا اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دبا دیا اور جماعت کو مخالفین کوئی گزند نہیں پہنچا سکے۔ان کا دعویٰ تھا کہ ہم پتہ نہیں کیا کر دیں گے۔پھر 1953ء میں فسادات اٹھے۔جب پاکستان بن گیا اس وقت دشمن کا خیال تھا کہ اب ہماری حکومت ہے یہاں انگریزوں کی حکومت نہیں رہی اب یہاں انصاف تو ہم نے ہی دینا ہے اور ان لوگوں کو انصاف کا پتہ ہی کچھ نہیں تھا اس لئے اب تو جماعت ختم ہوئی کہ ہوئی۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو ان سخت حالات اور خوف کی حالت سے ایسا نکالا کہ دنیا نے دیکھا کہ جو دشمن تھے وہ تو تباہ و برباد ہو گئے ، وہ تو ذلیل وخوار ہو گئے لیکن جماعت