خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 342

$2004 342 مسرور چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں ، عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قومی قوی ہیں کس میں قوت انسانیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔اس لئے جناب الہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے که وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ خلیفہ بناتا الله تعالیٰ ہی کا کام ہے وَعَدَهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ۔حقائق الفرقان جلد۔سوم صفحه (٢٥٥ فرمایا کہ: ” مجھے نہ کسی انسان نے ، نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی رداء کو مجھ سے چھین لئے“۔(الفرقان، خلافت نمبر مئی جون ١٩٦٧ء صفحه (٢٨) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے“۔(الفرقان، خلافت نمبر۔مئی جون ١٩٦٧ء صفحه ٢٨) پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ کے ان پر زور خطابات سے اور جو آپ نے اس وقت براہ راست انجمن پر بھی ایکشن لئے ، جتنے وہ لوگ باتیں کرنے والے تھے وہ سب بھیگی بلی بن گئے، جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔اور وقتی طور پر ان میں کبھی کبھی ابال آتا رہتا تھا اور مختلف صورتوں میں کہیں نہ کہیں جا کر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے لیکن انجام کا رسوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں ملا۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات ہوئی۔اس کے بعد پھر انہیں لوگوں نے سراٹھایا اور ایک فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی ، جماعت میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور بہت سارے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی طرف مائل بھی کر لیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر خلافت کا انتخاب ہوا تو حضرت مرزا