خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 333

$2004 333 خطبات مسرور بڑے ثمرات ہیں۔یہ برکات کا سرچشمہ ہے۔در حقیقت اولیاء وصلحاء یہی لوگ ہوتے ہیں جو تو بہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں۔وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔کامل تو بہ کرنے والا شخص ہی ولی ، قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے۔اس کے بعد بلائیں اور مصائب جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحہ ١٤٧،١٤٧٦ ـ الحكم ٢٤ مارچ ۱۹۰۳ء) پھر فرمایا: ” پس اٹھو اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزادی جاتی ہے، تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔سو اپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے۔یہاں طاعون کی مثال دی ” یعنی طاعون کے زور کا دن جس کی نبیوں نے خبر دی ہے۔اور آج بھی جو دنیا میں برائیاں پھیل رہی ہیں اس میں بھی ایک قسم کا طاعون ہی ہے جو ایڈز کی صورت میں دنیا میں پھیل رہا ہے۔فرمایا کہ قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے جس کی نبیوں نے خبر دی ہے " تم خدا سے صلح کر لو وہ نہایت درجہ کریم ہے۔ایک دم کی گداز کرنے والی تو بہ سے 70 برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔یادرکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بیچ نہیں سکتے۔ہمیشہ فضل بچاتا ہے، نہ اعمال۔اے خدائے کریم ورحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پرگرے ہیں۔(لیکچر لاهور روحانی خزائن جلد ٢٠ صفحه ١٧٤) کل انشاء اللہ تعالیٰ میں ایک سفر پر جا رہا ہوں، جرمنی، ہالینڈ وغیرہ کے اجتماعات اور جلسے ہیں۔اس کے لئے بھی احباب سے دعا کی درخواست ہے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ہر طرح بابرکت ☆☆ فرمائے۔