خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 332

$2004 332 مسرور فرمایا کہ اگر گناہ پر نادم ہو پریشان ہو،شرمندہ ہو، استغفار کرے تو اللہ اس کے برے نتائج سے بچالیتا ہے لیکن گناہوں پر اصرار نہ ہو کبھی۔اور اگر اصرار ہوگا اور احساس ختم ہو جائے گا تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس آیت کے مطابق پھر انسان ضرور سزا پائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنے آگے جھکنے والا اور گناہوں سے بخشش طلب کرنے والا بنا تا ر ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ” تو بہ ایک طرف (موت) کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔تو بہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویا نئی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے۔نہ اس کی وہ چال ہونہ اس کی وہ زبان، نہ ہاتھ نہ پاؤں سارے کا سارانی وجود ہو جو کسی دوسرے کے تحت کام کرتا ہوا نظر آ جاوے۔دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اور ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۱٤٦ - ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ء) ـ ١٩٠٣ء) تو اس طرح اگر تو بہ کی جائے اور اسی طرح تو بہ کرنی چاہئے۔اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی ضد نہیں کرنی چاہئے۔بہن بھائیوں کے حقوق ہیں ان کی ادائیگی کی طرف توجہ چاہئے۔پھر ہمسایوں کے حقوق ہیں ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے۔پھر معاشرے کے حقوق ہیں ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور ہر گند سے اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور معاشرے کے جتنے زہر ہیں، جتنی برائیاں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے مثلاً یہ آج کل عام بیماری ہے اور سکول میں 15-16-17 سال تک کی عمر کے بچوں کو سگریٹ کی عادت ڈالی جاتی ہے اور پھر سگریٹ میں بعض نشہ آور چیز میں ملا کے اس کی عادت ڈالی جاتی ہے۔پھر وہ اپنے ساتھی لڑکوں کو عادت ڈالتے ہیں اس طرح یہ پھیلتی چلی جاتی ہے اور وہی سکول کے لڑکے ان کے ایجنٹ کے طور پر پھر کام کر رہے ہوتے ہیں۔تو اس پر بھی ماں باپ کو نظر رکھنی چاہئے۔کسی قسم کی معاشرے کی برائی کا اثر نہ ہم پر نہ ہمارے بچوں پر ظاہر ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود پھر فرماتے ہیں کہ : ” خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ تو بہ میں بڑے