خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 331
$2004 331 خطبات مسرور شدیدہ کے لئے سپر کا کام دیتا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفَرُوْنَ (سورة الانفال آیت نمبر :34)۔” یعنی اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ مغفرت اور بخشش طلب کر رہے ہوں تو اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔(ملفوظات جلد اول صفحه ١٣٤ ـ الحكم ٢٤ جولائی ١٩٠١ء) آج کل جو دنیا کی مشکلات ہیں اور ہر طرف ایک افراتفری پیدا ہو رہی ہے۔ہر روز انسان اپنے اعمال کی وجہ سے شامت اعمال میں ہے، نیا فتنہ وفساد کھڑا ہو رہا ہے۔نئی نئی مصیبتوں کے کھڑے ہونے کے سامان پیدا ہورہے ہیں۔ان میں ہم احمدیوں کو خاص طور پر دعاؤں اور استغفار کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دنیا کو بچانے کے لئے احمدیوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اسے سمجھنے کی بھی توفیق دے اور اپنے لئے بہت دعائیں کرنے کی بھی توفیق دے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” تمہارا خداوہ خدا ہے جو اپنے ا بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کو معاف کر دیتا ہے کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴾ (الزلزال: ٩ ) یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گاوہ اس کی سزا پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیت میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شر سے وہ شر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذَنْب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ورنہ سارا قرآن شریف اس بارے میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ٢٣ - صفحه (٢٤