خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 290

$2004 290 خطبات مسرور بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، پھر دعوتوں میں غیر ضروری اخراجات اور نام و نمود کی دوڑ ہے اور جو بے چارہ نہ کر سکے، اگر خود اپنے وسائل کی وجہ سے کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن جو نہ کر سکے اس پر پھر باتیں بناتے ہیں کہ بلایا تھا، وہاں یہ تھا وہ تھا اور پھر کئی کئی دن مختلف ناموں سے رسمیں جاری ہو چکی ہیں اور دعوتیں کی جاتی ہیں۔دعوت تو صرف ایک دعوت ولیمہ ہے، جو اسلام کی یہ صحیح تعلیم میں ہمیں نظر آتی ہے۔اس کے علاوہ تو جس کو توفیق نہیں ہے دکھاوے کی خاطر تو دعوتیں کرنی ہی نہیں چاہئیں۔اور کبھی اپنے اوپر بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔ہاں جب مہمان آتے ہیں ہلکی پھلکی مہمان نوازی فرض ہے وہ کر دی جائے۔اور پھر جس کے پاس وسائل ہیں وہ اگر دعوت کر لیتا ہے تو اپنے ہی وسائل سے خرچ کرتا ہے۔اس کی دیکھا دیکھی اپنے پر بوجھ ڈال کر جس کے کم وسائل ہیں جس کی توفیق نہیں ہے۔اس کو قرض لے کر یا پھر امداد کی درخواست دے کر ایسا نہیں کرنا چاہئے۔اور کم وسائل والوں کو حتی المقدور کوشش یہی کرنی چاہئے جتنا کم سے کم خرچ ہو کریں کیونکہ ان کو تو اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کے نبی کی سنت پر عمل کر رہے ہیں۔بجائے اس کے کہ احساس کمتری کا شکار ہوں۔جماعت میں مریم شادی فنڈ کے نام سے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک سکیم شروع فرمائی تھی تا کہ ضرورت مند بچیوں کی شادیوں کے لئے اخراجات یا فنڈ مہیا کیا جا سکے۔تو اس میں سے ایک سادہ اندازے کے مطابق جماعت رقم دیتی ہے لیکن اس پر بھی بعض لوگوں کی طرف سے مطالبے آجاتے ہیں کہ رقم تھوڑی ہے ہم نے یہ بھی خرچ کرنا ہے اور یہ بھی خرچ کرنا ہے، حالانکہ وہ تمام غیر ضروری اخراجات ہوتے ہیں ان کے بغیر بھی گزارا ہوسکتا ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کو بھی میں یہی کہتا ہوں کہ جماعت انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وسائل کے مطابق احمدی بچیوں کا خیال رکھے گی ان کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرے گی۔شادیوں میں جو کچھ ہوسکتا ہے کیا جائے گا لیکن ان کے والدین کو بھی قناعت اور شکر گزاری اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔