خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 288
$2004 288 مسرور لیکن آجکل کے سینتھيئك (Synthetic) سر کے پیٹ بھی خراب کر دیتے ہیں۔اصل سر کہ ہونا چاہئے۔قناعت کے یہ معیار ہیں جو آنحضرت میلہ نے ہمیں سکھائے۔ہم آجکل عمدہ عمدہ کھانے کھانے کے بعد بھی یہ نخرے کر رہے ہوتے ہیں کہ اس میں نمک زیادہ ہے، اس میں مرچ کم ہے یا اس میں مرچ زیادہ ہے، اس میں ہزاروں قسم کے نقص نکال رہے ہوتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس زمانے میں ہمیں ایسی خوراک میسر ہے۔آجکل یہ نہیں کہ صرف آدمی سرکہ ہی کھائے ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے اور ان سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے لیکن شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کے جذبات پہلے سے زیادہ بڑھنے چاہئیں۔حضرت عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ نے روٹی کے ایک ٹکڑے پر کھجور رکھی ہوئی تھی اور فرمارہے تھے کہ یہ کھجور اس روٹی کا سالن ہے“۔(ابوداؤد کتاب الايمان باب الرجل يحلف ان لا يتأدم) اس حدیث کا نمونہ اس زمانے میں آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ میں نے گوشت کا منہ نہیں دیکھا۔اکثر مستی روٹی یا اچار یا دال کے ساتھ کھا لیتا ہوں۔فرمایا آج بھی اچار کے ساتھ روٹی کھائی ہے"۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۰۰ ـ البدر ۱۰/ اپریل ۱۹۰۳ء) روٹی کیا ہوتی تھی ، روٹی کا ایک چپہ ہوتا تھا جو آپ کھایا کرتے تھے۔پھر ایک حدیث ہے یہ اور بھی تڑپا دیتی ہے کہ ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی علی نے کس قناعت اور سادگی سے زندگی گزاری نہ صرف آپ نے بلکہ آپ کے اہل خانہ نے بھی۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ بھانجے ہم دیکھتے رہتے اور رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔اس پر میں نے پوچھا پھر خالہ آپ زندہ کس چیز پر تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ ہم کھجور میں کھاتے اور پانی پیتے تھے سوائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ کے انصاری ہمسائے تھے ان