خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 287

$2004 287 خطبات مسرور لگیں کہ عام انسانوں کی طرح رہتے تھے اور گھر یلو کاموں میں اہل خانہ کی مددفرماتے تھے اور اپنا کام خود کر لیتے تھے۔(بخاری کتاب الاذان باب من كان فى حاجة اهله فاقيمت الصلاة فخرج ) ایک روایت میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر فر ماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ ذکر کر کے کہ آج لوگوں کے پاس کتنی دولت اور جائیداد ہے (حضرت عمر کے زمانے میں کافی فراوانی ہو گئی تھی) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہوا ہے کہ سارا دن بھوک میں گزر جاتا حتی کہ آپ کو اتنی مقدار میں ردی کھجوریں بھی میسر نہ آتیں کہ جن سے اپنی بھوک مٹا لیتے۔(صحیح مسلم کتاب الزهد عن نعمان بن بشير) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبوت کے بعد سے زندگی بھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدے کا آٹا نہیں دیکھا۔حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ جب سے آپ کو اللہ نے نبی بنایا اس وقت سے لے کر وصال تک چھنا ہوا آٹا نہیں دیکھا۔پوچھا گیا کہ بغیر چھنے ہوئے آئے کو آپ لوگ کیسے کھاتے تھے تو بیان کرتے ہیں کہ ہم جو کو پیتے تھے اور آئٹے کومنہ سے پھونک مارتے تھے تو کچھ بھوسی اڑ جاتی تھی جو موٹا موٹا تھا اس میں سے نکل جاتا تھا اور بقیہ کی روٹی پکاتے اور کھا لیتے تھے۔(صحيح بخاري عن سهل بن سعدة كتاب الاطعمة باب النفخ في السعير) اسی لئے ایک دفعہ نرم روٹی کھاتے ہوئے حضرت عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور نرم لقمہ حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔کسی نے پوچھا کیوں؟ تو آپ نے فرمایا مجھے خیال آ گیا کہ آنحضرت کے وقت یہ میسر نہ تھا اور آپ نے ہمیشہ سخت روٹی کھائی۔صل الله ام سعد کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے ہیں وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔حضور نے پوچھا کہ ناشتہ کیلئے کچھ ہے۔حضرت عائشہ نے کہا ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے۔رسول کریم نے فرمایا سر کہ کتنا عمدہ سالن ہے۔یہ سادگی اور قناعت دونوں چیزیں تھیں۔پھر دعا کی کہ اے اللہ ! سرکہ میں برکت ڈال، یہ میرے سے پہلے نبیوں کا بھی کھانا تھا۔جس گھر میں سرکہ ہے وہ محتاج نہیں ہے۔(ابن ماجه كتاب الاطعمه باب الائتدام بالخل)