خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 282

$2004 282 خطبات مسرور ملتا کیونکہ بے روزگاری بھی بہت بڑھ گئی ہے۔تو ان حالات میں ہمیں جو کچھ کام میسر آتا ہے کر لینا چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا تو بہر حال بہتر ہے۔تو پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے۔میرے پاس بھی کئی لوگ مشورے کے لئے آتے ہیں تو میں نے جس کو بھی یہ مشورہ دیا ہے کہ جو بھی کام ملتا ہے کر لو تو پہلے جو فارغ تھے اب کچھ نہ کچھ کام پر لگ گئے ہیں اور پھر بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کام پر لگنے کے بعد وہ بہتر کام کی تلاش کرتے رہتے ہیں اور قناعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے رہتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے پھر بہتری کے سامان بھی پیدا فرما دیئے۔اور بہتر ملازمتیں مل گئیں۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ: " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 66 فرمایا کہ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔(رساله قشیریه باب القناعة صفحه ۲۱) بعض دفعہ انسان سوچتا ہے کہ یہ بھی میری ضرورت ہے یہ بھی میری ضرورت ہے لیکن جب قناعت کی عادت پڑ جائے تو ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی جنہیں پہلے وہ بہت اہم سمجھتا تھا۔او راس طرح بچت کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔اور ایک احمدی کو بچت کی عادت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی خاطر مالی قربانی کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔پھر ایک نیکی سے دوسری نیکیاں جنم لیتی رہتی ہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی انتہائی کنجوس ہو وہ تو صرف بچت کر کے صرف پیسے ہی جوڑتا ہے وہ تو استثناء ہوتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال نصف معیشت ہے۔اور لوگوں سے محبت سے پیش آنا نصف عقل ہے اور سوال کو بہتر رنگ میں پیش کرنا نصف علم ہے۔(بیہقی فی شعب الایمان - مشکواة باب الخدر الثاني في السور صفحه ٤٣٠) تو دیکھیں میانہ روی اور اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنا اس حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تمہارے حالات ہیں ان پہ صرف کنٹرول کرنے سے ہی اور اعتدال کے