خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 261
261 $2004 خطبات مسرور اپنا محبوب بنالیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تو بہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نری تو بہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔(الحكم ١٧۔ستمبر ١٩٠٤ء جلد نمبر ٨ نمبر ۳۱ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود" جلد اوّل صفحه ٥۔۔(V۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” جو باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں ان کو دوست رکھتا ہوں، ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی مد اور معاون ہے۔اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر پھر طہارت نہ کرے تو اندرونی پاکیزگی پاس بھی نہ پھٹکے۔پس یا درکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اسی لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کونسل کرو، ہر نماز میں وضو کرو، جماعت کھڑی کرو تو خوشبولگا لو، عیدین اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے ، اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے ( بد بو کا اندیشہ ہوتا ہے )۔پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمیت اور عفونت سے روک ہوگی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحه ٧٠٥،٧٠٤) صفائی کے بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں، حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ یعنی طہارت پاکیزگی اور صاف ستھرا رہنا ایمان کا ایک حصہ ہے۔(مسلم کتاب الطهارة باب فضل الوضوء ) ابو مالک اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاکیزگی اختیار کرنا نصف ایمان ہے“۔(المعجم الکبیر جلد ۳ صفحه ٢٨٤) اب دیکھیں مومن کے لئے صفائی کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے، اور یہ احادیث اکثر مسلمانوں کو یاد ہیں، کبھی ذکر ہو تو آپ کو فورا حوالہ بھی دے دیں گے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس پر