خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 262
$2004 262 خطبات مسرور عمل کس حد تک ہے؟ یہ دیکھنے والی چیز ہے، اگر ایک جگہ صفائی کرتے ہیں تو دوسری جگہ گند ڈال دیتے ہیں اور بدقسمتی سے مسلمانوں میں جس شدت سے صفائی کا احساس ہونا چاہئے وہ نہیں ہے اور اسی طرح اپنے اپنے ماحول میں احمدیوں میں بھی جو صفائی کے اعلیٰ معیار ہونے چاہئیں وہ مجموعی طور پر نہیں ہیں۔بجائے ماحول پر اپنا اثر ڈالنے کے ماحول کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک میں اکثر جہاں گھر کا کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے، گھر سے باہر گند پھینک دیتے ہیں حالانکہ ماحول کو صاف رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے گھر کو صاف رکھنا۔ورنہ تو پھر اس گند کو باہر پھینک کر ماحول کو گندا کر رہے ہوں گے اور ماحول میں بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہوں گے۔اس لئے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔کوئی ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ گھروں کے باہر گند نظر نہ آئے۔ربوہ میں، جہاں تقریباً ۸۹ فیصد احمدی آبادی ہے، ایک صاف ستھرا ماحول نظر آنا چاہئے۔اب ما شاء اللہ تزئین ربوہ کمیٹی کی طرف سے کافی کوشش کی گئی ہے۔ربوہ کو سرسبز بنایا جائے اور بنا بھی رہے ہیں۔کافی پودے، درخت گھاس وغیرہ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے ہیں اور نظر بھی آتے ہیں۔اکثر آنے والے ذکر کرتے ہیں۔اور کافی تعریف کرتے ہیں۔کافی سبزہ ربوہ میں نظر آتا ہے۔لیکن اگر شہر کے لوگوں میں یہ حس پیدا نہ ہوئی کہ ہم نے نہ صرف ان پودوں کی حفاظت کرنی ہے بلکہ اردگرد کے ماحول کو بھی صاف رکھنا ہے تو پھر ایک طرف تو سبزہ نظر آ رہا ہوگا اور دوسری طرف کوڑے کے ڈھیروں سے بدبو کے بھبھا کے اٹھ ر ہے ہوں گے۔اس لئے اہل ربوہ خاص توجہ دیتے ہوئے اپنے گھروں کے سامنے نالیوں کی صفائی کا بھی اہتمام کریں اور گھروں کے ماحول میں بھی کوڑا کرکٹ سے جگہ کو صاف کرنے کا بھی انتظام کریں۔تا کہ کبھی کسی راہ چلنے والے کو اس طرح نہ چلنا پڑے کہ گند سے بچنے کے لئے سنبھال سنبھال کر قدم رکھ رہا ہو اور ناک پر رومال ہو کہ بو آ رہی ہے۔اب اگر جلسے نہیں ہوتے تو یہ مطلب نہیں کہ ربوہ