خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 253

$2004 253 خطبات مسرور ہماری نمائندگی کر دینا ہم بھی احمدیت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔پھر وہاں انہوں نے دستی بیعت کی تو اس لحاظ سے یہاں بھی دستی بیعت ہوئی اور ایک اچھی تعداد جماعت میں شامل ہوئی۔پھر یہ کہ انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کیا اور سوائے اللہ کے اور کوئی دلوں میں پیدا نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو پیدا کرتی ہے۔پیدا کرتی ہے۔واپسی پر وہاں سے پھر ایک جگہ ہے جہاں تین چار ہزار کی گیدرنگ تھی۔رات کو بارش ہو گئی موسم خراب ہو گیا۔کچھ غیر احمدیوں نے مولویوں نے کافی شور مچایا اور لوگوں کو ڈرایا کہ وہاں نہیں جانا ، کچھ ٹرانسپورٹرز کو کہا، ٹرانسپورٹ مہیا نہیں ہو سکی اور ان کو پیسے دیئے کہ احمدیوں کے جلسے یہ نہیں جانا۔ہم تمہیں خرچ دیتے ہیں اس مخالفت کے باوجود تین چار ہزار کی یہاں حاضری تھی لوگ اکٹھے ہو گئے احمدی تھے۔یہاں بھی میئر نے کھڑے ہو کر کھلے عام اعلان کیا کہ میں احمدی ہوتا ہوں اور آج بیعت میں شامل ہوتا ہوں مجھے پورا یقین ہے کہ احمدیت کچی ہے۔اور تقریباً اس کے علاوہ ہزار کے قریب اور لوگوں نے بھی بیعت کی اور اعلان کیا کہ ہم پوری شرح صدر کے ساتھ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں اندازے کے مطابق ہزاروں میں دورے کے دوران لوگ احمدیت میں شامل ہوئے ہمارے ساتھ مستقل یہاں اخباری نمائندے اور ریڈیو ٹیلیویژن کے نمائندے پھرتے رہے ان میں سے بھی ایک مرد نے تو بیعت کر لی اور ایک عورت نے یہ اظہار کیا کہ میں بہت قریب ہوگئی ہوں اور عنقریب بیعت کرلوں گی کیونکہ اگر کوئی میرا مذہب ہے تو وہ احمدیت ہی ہے۔یہاں بھی جذبات کا اظہار بہت ہے گو تھوڑی سی خاموشی ہے۔ہر ایک کا اپنا اپنا طریق کار ہوتا ہے طبیعت ہوتی ہے۔یہاں اس طرح نعرے تو نہیں لیکن بے تحاشا خاموش جذبات کا اظہار تھا۔آتے ہوئے جس طرح چہروں پر اداسیاں اور بعض لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس سے نظر آتا تھا کہ کافی جذباتی کیفیت ہے۔نائیجیریا میں گوصرف دو دن پروگرام تھا بلکہ پہلے پروگرام نہیں تھا اور آخری وقت میں یہ بنا ہے۔میں نے بیٹن میں ایک اور بہت اچھی چیز دیکھی ہے۔وہاں لجنہ نے اپنی ایک خاص ٹیم تیار کی