خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 254
$2004 254 خطبات مسرور ہے جو ہر موقعے پر ڈیوٹیاں دیتی ہے۔بڑی باپردہ، نقاب لے کے اور مستقل ڈیوٹیاں دیتے رہے ہیں۔ایم ٹی اے پر دکھایا گیا تو دیکھ بھی لیں۔نائیجیریا کا میں بتا رہا تھا کہ یہاں پروگرام پہلے نہیں تھا لیکن اتفاق سے اور مجبوری سے بن گیا۔کیونکہ اور کوئی فلائیٹ نہیں تھی اگر تھیں تو مہنگی تھیں۔وہاں جا کر یہ احساس ہوا کہ اگر یہاں نہ آتے تو غلط ہوتا۔کیونکہ باجود اس کے کہ کچھ عرصہ پہلے ان کا جلسہ سالا نہ ہو چکا تھا اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں شامل ہو چکے تھے۔یہ خیال نہیں تھا کہ دور دراز سے لوگ آ سکیں گے۔لیکن صرف دو گھنٹے اکٹھا ہونے کے لئے ، مجھے ملنے کے لئے 30 ہزار سے زیادہ وہاں احمدی مرد و عورتیں جمع ہو چکے تھے اور ان کے اخلاص اور وفا کے جو نظارے میں نے دیکھے ہیں وہ نا قابل بیان ہیں۔بہر حال جو تین دن ہم وہاں رہے، تیسرے دن رات کو واپسی ہوگئی تھی جس میں امیر صاحب نے کافی بھر پور پروگرام بنائے جتنا زیادہ فائدہ اٹھا سکتے تھے اٹھایا اور مصروف رکھا۔نائیجیریا میں بھی تین مساجد کا افتتاح کیا گیا۔انہوں نے بڑی بڑی اور خوبصورت مساجد بنائی ہیں اس کے علاوہ مختلف عمارتوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھے گئے یہاں کے لوگوں کے اخلاص اور خلافت سے تعلق اور محبت نا قابل بیان ہے۔واپسی کے وقت دعا میں بعض خواتین اور لوگ اس طرح جذباتی تھے اور اس طرح تڑپ رہے تھے کہ یہ محبت صرف خدا ہی پیدا کر سکتا ہے۔اور خدا کی خاطر ہی ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو ایمان یقین میں بڑھا تا چلا جائے بلکہ تمام دنیا کے احمدیوں کو اخلاص و وفا کے اعلیٰ معیار پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ایم ٹی اے پر جواب تک دکھایا جا چکا ہے یہ اخلاص و وفا کے نظارے دنیا نے دیکھے ہیں اور ابھی بہت سے پروگراموں میں دیکھیں گے۔مولوی کہتے ہیں کہ ہم نے افریقہ کے فلاں ملک میں جماعت احمدیہ کے مشن بند کرا دیے اور فلاں میں ہمارے سے وعدے ہو چکے ہیں۔اور یہ کر دیا اور وہ کر دیا ہے اب ان سے کوئی پوچھے یہ اخلاص و وفا اور نور سے پُر چہرے ایم ٹی اے میں دنیا نے دیکھ لئے اور وہاں جا کر ہم خود دیکھ آئے ہیں۔یہ کیا ہے سب کچھ؟ کیا یہ مشن بند کروانے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے جو بھی اپنی بڑ ہیں مارنی تھیں مار لیں۔اور مار رہے ہیں۔یہ بھی ہمارے ایمان میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔یہ تو صرف چار ملکوں کے مختصر حالات ہیں جو میں نے بیان کئے اور ایم ٹی اے پر مولویوں نے بھی دیکھے ہوں گے۔اور شاید سن بھی رہے ہوں بعض سنتے بھی ہیں ان کو سنے کا شوق بھی