خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 250
$2004 250 خطبات مسرور لوگ ہیں، زیادہ تر وہابی ہیں ان میں سے احمدی ہوئے ہیں۔یہاں بھی سکول کا سنگ بنیا د رکھا گیا۔جس کا راستہ کل راستے میں سے 165 کلومیٹر کا کچا راستہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے آرام سے ہو گیا۔لیکن واپسی پر ہمارے قافلے کی ایک گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔جس میں ہمارے دو مربیان اور دو قافلے کے افراد تھے جو یہاں سے گئے ہوئے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ، گاڑی سڑک سے اتر کر ایک کھائی میں گر گئی اور الٹ گئی لیکن کسی کو کچھ نہیں ہوا۔معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے سب کو بچالیا۔بورکینا فاسو میں بھی وزیر اعظم اور ان کے صدر مملکت سے ملاقات ہوئی بڑے خوشگوار ماحول میں ،ان کو بھی زراعت سے دلچسپی زیادہ تھی اس لئے کافی دیر تک بٹھائے رکھا بلکہ میری کوشش تھی کہ اب اٹھا جائے لیکن وہ کافی دیر باتیں کرتے رہے۔وہاں ایک تو لینڈ لاکڈ ( Land Locked) علاقہ ہے، اس ملک کے ساتھ سمندر کوئی نہیں لگتا اور پھر صحارا کے قریب ہے اس لئے بارشیں بھی کم ہوتی ہیں اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوتیں لیکن ایک چیز ان علاقوں میں مجھے اچھی لگی کہ انہوں نے ہر جگہ چھوٹے ڈیم بنالئے ہیں جہاں بارشوں کا پانی اکٹھا ہو جاتا ہے۔حالانکہ ابھی پانچ چھ مہینے بارشوں کا سیزن ختم ہوئے ہو چکے تھے لیکن اچھی مقدار میں وہاں پانی جمع تھا۔محنتی لوگ ہیں یہ ملک بھی امید ہے کہ ترقی کرے گا۔انشاء اللہ۔بور کینا فاسو میں بھی گھانا کی طرح جو بھی میری Activities رہیں، ان کا روزانہ نیشنل ٹیلیویژن، ریڈیو اور اخبارات میں باقاعدہ ذکر ہوتا رہا۔بورکینا فاسو میں تین نئی مساجد کا افتتاح ہوا اور ایک سکول اور مشن ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور پھر جو وا گاڈ و گوان کا دارالحکومت ہے وہاں احمدیہ ہسپتال کا افتتاح بھی ہوا۔بڑی وسیع اور خوبصورت انہوں نے ہسپتال کے لئے نئی عمارت بنائی ہے۔پہلے وہ کرائے کی عمارت میں تھا، اب اپنی عمارت بن گئی ہے۔نصف کے قریب عمارت ابھی پہلے فیز میں بنی ہے لیکن اس کے باوجود بڑی وسیع عمارت ہے، یہاں بھی افتتاح کی تقریب میں وہاں کے وزیر صحت آئے ہوئے تھے ، انہوں نے جماعتی خدمات کو بہت سراہا۔بورکینا فاسو کا ایک شہر بو بوجلاسو