خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 246

$2004 246 خطبات مسرور واپس آنے کے بعد نئی جگہ پر۔پہلے یہ سالٹ پانڈ میں ہوا کرتا تھا چھوٹی سی جگہ پر ، اب تو ماشاء اللہ وسیع رقبہ ہے اور اس میں عمارتیں بھی کافی ہیں کلاس روم بلاک ہیں ، ہوٹل ہیں ، سٹاف کوارٹر ہیں اور اس کو مزید وسعت بھی دی جارہی ہے۔یہاں گھانا کے علاوہ بعض دوسرے افریقن ممالک جہاں جامعہ کی سہولت نہیں ہے کے طلبا آ کے دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو دین کا علم سیکھنے اور وقف کی روح کے ساتھ آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔سکولوں میں بھی ماشاء اللہ بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے، جس زمانے میں میں وہاں تھا اس وقت اس بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔کہ اتنی عمارتیں بن جائیں گی اور اتنی وسعت پیدا ہو جائے گی۔پھر اس دوران ہی دو مساجد کا افتتاح بھی ہوا،سالٹ پانڈ جہاں ہمارے ابتدائی مبلغین کام کرتے رہے ہیں اس جگہ کو بھی دیکھنے کے لئے گئے۔وہاں صرف معائنہ تھا کیونکہ ابتد کی قربانی کرنے والوں کی قربانی کا پھل ہی آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھا رہے ہیں۔جن میں حکیم فضل الرحمان صاحب، مولانا نذیر احمد علی صاحب، مولانا نذیر احمد مبشر صاحب وغیرہ شامل ہیں۔سالٹ پانڈ کی وسیع خوبصورت مسجد اور مشن ہاؤس وغیرہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ان مبلغین نے مال کی کمی ، کمزوری اور وسائل کی کمی کے باوجود ایسی عالی شان اور خوبصورت عمارتیں کھڑی کر دیں۔اکرا(Accra) میں جہاں اب ہمارا ہیڈ کوارٹر ہے، یہیں قیام تھا، یہاں بھی بعض عمارات کا افتتاح ہوا وہاں جب میں ۱۹۵۸ء میں آیا ہوں تو کافی بڑی مسجدا کر امشن ہاؤس کے ساتھ ہی تھی لیکن اب انہوں نے اس کو مزید وسعت دے کر اور دو منزلہ بنا کر تقریباً اس وقت سے بھی تین گنا زیادہ کر لیا ہے۔لیکن اس دورے کے دوران امیر صاحب گھانا کو یہ احساس ہو گیا ہوگا کہ یہ مسجد بھی چھوٹی پڑ گئی ہے۔الہی وعدوں کے مطابق جماعت نے تو انشاء اللہ تعالیٰ پھیلنا ہے، جتنی بڑی چاہیں مسجدیں بنائیں وہ چھوٹی ہوتی چلی جائیں گی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے قربانی کی روح اور اللہ کے گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ اور خواہش رہی تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشیں سنبھالی نہیں جائیں