خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 230
$2004 230 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ” خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلت کی موت دیوے۔جو اس کی طرف آتا ہے ہرگز ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے، جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔اور ہر ایک مشکل سے خود بخو داس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے۔﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبْ ﴾ (الطلاق : ۳۴) اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ﴾ (الزلزال :۸) ہمارے ملک ہندوستان میں جو اولیاء گزرے ہیں جن کی عزت کی جاتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق تھا۔اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوں میں ہل چلاتے ، معمولی کام کرتے ،مگر خدا تعالیٰ سے بچے تعلق کی وجہ سے لوگ ان کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں۔(البدر جلد ٢ نمبر ١٤ - ٢٤ / اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۷) پھر جیسا کہ میں نے کہا صرف خود ہی نیک اور عبادت گزار نہیں بننا بلکہ اپنی اولادوں میں بھی یہ نیکی پیدا کرنی ہے۔صحیح عبادت کرنے والا وہی ہے جو اپنی اولا د میں بھی یہی نیکی قائم رکھتا ہے۔ایک روایت ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، یا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔تیسرے نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔(صحیح مسلم کتاب الوصية باب ما يلحق الانسان من التواب ) پس نیک لڑکا جو دعائیں کرنے والا ہوگا، وہ بھی اس کے لئے ایک طرح کا صدقہ جاریہ ہی