خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 18
$2004 18 خطبات مسرور خودی کا ہوتا ہے۔ان میں خودی نہیں رہتی۔وہ اپنے نفس پر ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔کبریائی خدا کے واسطے ہے۔جولوگ تکبر نہیں کرتے اور انکساری سے کام لیتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتے“۔(ملفوظات جلد ٥ صفحه ٢١٦ البدر ۲ مئی ۱۹۰۷ء پھر آپ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”انسان بیعت کنندہ کو اول انکساری اور بجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنے خودی اور نفسانیت سے الگ ہونے پڑتا ہے تب وہ نشو ونما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٤٥٥ ، ١٦ نومبر ١٩٠٣) پھر آپ نے فرمایا: ”میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات و تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہوتا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اس سے کرو۔اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈرسکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو“۔(نزول المسيح - روحانی خزائن جلد ١٨ صفحه ٤٠٣،٤٠٢) فرمایا: انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے۔اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکار انہیں پاسکتا۔کبیر نے سچ کہا ہے۔بھلا ہوا ہم بیچ بھنے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اونچ کے ملتا کہاں بھگوان ( یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔اگر عالی خاندان میں پیدا