خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 222
222 $2004 خطبات مسرور ہم اس کے ہر اس انعام سے حصہ لینے والے ہوں جو اس کے نزدیک ہمارے لئے بہترین ہے۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تم جہاں بھی رہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بدی کے بعد نیکی کرو، نیکی بدی کے اثر کو مٹادیتی ہے۔( مسند احمد بن حنبل - مسند الانصار - حدیث ابی ذر الغفاری) اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جان بوجھ کر کوئی بدی کر دو اور اس کے بعد کوئی چھوٹی سی نیکی کر کے سمجھو کہ بدی ختم ہوگئی۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلطی سے انجانے میں کوئی بدی ہو جائے اور پھر اس کا احساس ہو،شرمندگی ہو، اللہ کا خوف ہو تو پھر استغفار کرو اور برائیاں نہ کرنے کا عہد کرو تو پھر اس کے اثرات مٹ جائیں گے۔اسی لئے پہلے فرمایا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھول چوک معاف کر دے گا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کثرت سے لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا موجب ہوگا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اس ملک کے لوگ بڑے اچھے اخلاق دکھاتے ہیں۔اگر احمدی ہونے کے بعد اس حسن اخلاق کے ساتھ آپ میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ بھی پیدا ہو جائے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو پھر اللہ اور اللہ کا رسول جنت کی بشارت دیتا ہے۔اگلی بات یہ ہے کہ تقویٰ کے مطابق زندگیوں کو ڈھالنا اور اُسے صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا کافی نہیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی یہ اعلیٰ وصف پیدا کرنا ہے۔کیونکہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چلانے کی کوشش نہ کی تو ہمارا تقویٰ ہماری ذات تک ہی محدود رہ جائے گا۔اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری نسلوں میں یہ جاری نہیں رہ سکے گا۔اگر ہم نے اپنی نسلوں کی صحیح