خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 223
$2004 223 خطبات مسرور طرح تربیت نہ کی اور ان کو تقویٰ پر قائم نہ کیا تو پھر ہماری نسلیں بگڑ کر پہلے کی طرح ہو جائیں گی جن میں کوئی دین نہیں رہے گا۔اس لئے ہر احمدی کے لئے ضروری ہے کہ جو نور ہدایت اس نے حاصل کیا ہے وہ اپنی نسلوں میں بھی جاری کرے تاکہ ہر آنے والی نسل پہلے سے بڑھ کر تقویٰ پر چلنے والی ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ’” جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دین دار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے ، بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے۔اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہوگا۔( یعنی نیک نسل نہیں، بدنسل )۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعوی ہی ہو گا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعوئی میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بناوے۔تب اس کی ایسی خواہش نتیجہ خیز خواہش ہوگی۔اور ایسی اولا د حقیقت میں اس قابل ہوگی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں“۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاص طور پر ہم احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہے دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔نمازوں کی پابندی کرو، اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو ، نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو، راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔عورتوں بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں۔اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے روکو۔