خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 220
$2004 220 خطبات مسرور اس لئے چھوٹ دی جاتی ہے۔نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے یہ عذر قابل قبول نہیں ہوں گے۔اس لئے ہر ایک کو اپنے آپ کو ہر برائی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور ہر نیکی کو بجا لانے کے لئے تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہئے۔تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم امام الزمان کی جماعت میں شامل ہیں۔یاد رکھیں کہ تمام بری باتوں سے اس وقت بچا جا سکتا ہے جب دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت ہو۔اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف ہو جس سے اس کی محبت بھی ظاہر ہوتی ہو۔اور یہ باتیں تب ملتی ہیں جب اس کے آگے جھکا جائے ، اس سے مانگا جائے۔یہ دعا کی جائے کہ اے خدا! میں تیری محبت میں وہ تمام باتیں چھوڑ نا چاہتا ہوں جن کے چھوڑنے کا تو نے حکم دیا ہے۔اور وہ تمام باتیں اختیار کرنا چاہتا ہوں جن کے کرنے کا تو نے حکم دیا ہے۔لیکن تیرا قرب پانے کے لئے بھی تیرا فضل ہونا ضروری ہے۔اے اللہ ! اپنے فضل سے مجھے تقولٰی عطا فرما۔اگر نمازوں میں رو رو کر اپنے رب سے مانگیں گے تو اپنے وعدوں کے مطابق ضرور ہماری دعائیں سنے گا۔پس سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنی نمازوں کو، اپنی دعاؤں کو، اس کے لئے خالص کرنا ہوگا۔اور یہی بنیادی چیز ہے۔اگر نمازوں میں ذوق اور سکون میسر آ گیا تو سمجھیں سب کچھ مل گیا۔نمازوں میں خاص طور پر یہ دعا کریں جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَتِهَا وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّهَا۔اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقومی عطا کر اور اس کو خوب پاک صاف کر دے، اور تو ہی سب سے بہتر ہے جو اس کو پاک کر سکے۔( دل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پاک صاف ہو سکتا ہے)۔(صحیح مسلم كتاب الذكر والدعاء) - اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دلوں کو پاک کرنے کی توفیق دے۔دلوں کو اللہ تعالیٰ کے نور سے بھرنے کے لئے ، یہ دیکھنے کے لئے کہ کون سی باتیں ہیں جن