خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 212

$2004 212 خطبات مسرور دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسے نہ کہو کہ لوگ ہم سے حسن سلوک کریں گے تو ہم بھی ان سے حسن سلوک کریں گے اور اگر انہوں نے ہم پر ظلم کیا تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے بلکہ تم اپنے نفس کی تربیت اس طرح کرو کہ اگر لوگ تم سے حسن سلوک کریں تو تم ان سے احسان کا معاملہ کرو۔اور اگر وہ تم سے بدسلوکی کریں تو بھی تم ظلم سے کام نہ لو۔(ترمذى كتاب البر والصلة والادب باب ماجاء في الاحسان والعفو دیکھیں کس قدر حسین تعلیم ہے۔پھر ہر کوئی اپنا جائزہ لے۔خوف پیدا ہوتا ہے کیا ہم نے یہ معیار حاصل کر لیا ہے، حکم تو یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے معمولی نیکی بھی کرتا ہے تو تم اس سے احسان کا سلوک کرو، جو نیکی تمہارے سے کسی نے کی ہے اس سے کئی گنا بڑھ کر اس سے نیکی کرو۔اور پھر یہیں بس نہیں کر دینا فرمایا کہ اگر تمہارے سے کوئی برائی بھی کرتا ہے تو پھر بھی تم نے ظلم نہیں کرنا۔اگر معاف نہیں کر سکتے تو اتنا بدلہ نہ لوکہ ظلم بن جائے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کرنے کا طریق بھی ہمیں بتادیا، اس بارے میں ایک روایت ہے۔حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس پر کوئی احسان کیا گیا ہو اور وہ احسان کرنے والے کو کہے کہ جَزَاكَ الله خيرًا کہ اللہ تعالیٰ تجھے بہترین جزا دے تو اس نے شکریہ ادا کرنے کی انتہا کر دی۔(ترمذى كتاب البر والصلة باب في ثناء بالمعروف) تو یہ بات یا درکھنی چاہئے کہ احسان کرنے والے کو صرف تكلفاً جزاک اللہ کہنا کافی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی دعا ہے جو تمہارے دل سے نکلنی چاہئے کیونکہ احسان کرنے والے کا ممنون احسان ہونے کے بعد اس کا احسان تبھی اتارا جا سکتا ہے۔کہ تمہارے دل سے اس شکریہ کی آواز نکلے جو عرش تک پہنچے، اللہ میں ایسی دعاؤں کی توفیق دے جن سے پاک معاشرہ قائم ہو جائے۔پھر حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں اللہ تعالیٰ اس پر اپنا دامن رحمت پھیلا دے گا اور اسے جنت میں داخل