خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 211
$2004 211 خطبات مسرور اور احساس ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے۔(بخاری کتاب الايمان باب سؤال جبريل النبي الله عن الايمان) تو احمدیوں کو اپنی نمازوں کی ادائیگی میں ہمیشہ یہ اصول اپنے سامنے اور نظر میں رکھنا چاہئے ، جب ہر احمدی اس طرح نمازیں پڑھنے والا ہو جائے گا نہ کہ صرف سر سے ٹالنے کے لئے نمازیں پڑھے گا۔تو جب اس فکر کے ساتھ نمازیں ادا کی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہیں ، تمام توجہ اسی کی طرف ہے، تو پھر دیکھیں کس طرح انقلابات برپا ہوتے ہیں۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : نیکی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں۔اور اس کی محبت ذاتی رگ و ریشہ میں سرایت کر جاوے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ﴿انَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَاءِ ذِي الْقُرْبى خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یا دکر کے اس کی فرمانبرداری کرو۔اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اسے پہچانو۔اور اس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا۔اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبعی محبت سے کرو، بہشت کی طمع یا لالچ ، نہ دوزخ کا خوف ہو بلکہ اگر فرض کیا جاوے نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔اور ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا۔( البدر جلد ۲ نمبر ٤٣ - ١٦ / نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۵) پھر ایک حدیث میں بیان کرتا ہوں، اس میں دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کیا توقعات رکھتے ہیں، حسن خلق کے کس اعلیٰ معیار تک ہمیں لے جانا چاہتے ہیں۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم