خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 210
$2004 210 مسرور پھر قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے احسان کی مختلف شکلیں بیان فرمائی ہیں۔کہیں فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور یہ بھی احسان کرنا ہے۔لیکن یہ خدا تعالیٰ پر احسان نہیں بلکہ یہ تمہارا اپنے پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس وجہ سے بہت سی بلاؤں سے محفوظ رکھے گا۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اپنے قریبیوں کے ساتھ جس طرح بعض دفعہ تم بغیر کسی ذاتی فائدہ کے حسن سلوک کرتے ہو، جس طرح تم اپنے بیوی بچوں، بہن بھائیوں یا قریبی دوستوں کی مدد کرتے ہو اور بے نفس ہو کر کرتے ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری مخلوق سے بھی حسن سلوک کرو، ان سے بھی احسان کا سلوک کرو، ان کے کام آؤ، جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو ان کے لئے بھی پسند کرو، اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نعمت سے نوازا ہے کہ تمہیں اس زمانے کے امام اور مسیح اور مہدی علیہ السلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اپنے ہم قوموں کو بھی یہ روشنی وسیع پیمانے پر دکھانے کی کوشش کرو یہ بھی تمہارا ان پر احسان ہوگا۔ہر پاک دل کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے آؤ۔تو یہ بھی تمہارا قوم پر ایک بہت بڑا احسان ہوگا اور تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بھی بن رہے ہو گے لیکن یہ بھی یادرکھیں کہ اپنے میں شامل کر کے پھر یہ تعلق چھوڑ نہیں دینا بلکہ ان سے پختہ رابطہ اور تعلق بھی رکھنا ہے۔تو اس سوچ کے ساتھ ہر احمدی کو احسان کے اعلیٰ ترین خلق کو دنیا میں رائج کرنا چاہئے۔اب اس بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔ایک لمبی حدیث ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جبرائیل علیہ السلام نے آکر اسلام ایمان وغیرہ سے متعلق سوال پوچھے۔اور اس میں سے ایک سوال احسان کے بارے میں بھی کیا ، احسان سے متعلقہ حصہ میں سناتا ہوں۔سوال تھا کہ احسان کے متعلق کچھ بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر تجھے یہ درجہ حاصل نہیں تو کم از کم یہ تصور