خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 208
خطبات مسرور $2004 208 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَّامَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّامَنُواْ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔(المائده آیت ۹۴) اس آیت کا ترجمہ ہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھاتے ہیں۔بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور مزید ایمان لائیں پھر اور بھی تقوی اختیار کریں اور احسان کریں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔بنیادی اخلاق جن کا ہر احمدی کو خیال رکھنا چاہئے کے بارے میں میں نے سلسلہ خطبات شروع کیا ہوا ہے اس سلسلے میں آج احسان کا مضمون میں نے لیا ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے عدل کے بارے میں بتایا تھا۔جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مومن ایک منزل پر آ کر رک نہیں جاتا بلکہ آگے بڑھتا ہے تو ہماری انتہاء صرف عدل قائم کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے آگے قدم بڑھانا ہے۔ایک دنیا دار کہے گا کہ جب عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار قائم ہو گئے تو پھر کیا رہ گیا ہے۔یہ تو ایک معراج ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہئے۔اور جب یہ قائم ہو جائے تو دنیا کی نظر میں اس سے زیادہ کوئی نیکیوں پر قائم ہو ہی نہیں سکتا۔اس بارے میں کل میں نے اپنی تقریر میں بھی کچھ عرض کیا تھا کہ عدل کے معیار اس حد تک لے جاؤ کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم عدل سے کام نہ لو۔