خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 202

$2004 202 خطبات مسرور ہی چلا جائے۔خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ ان کے خوفوں کو دور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اس کو خوف کیا اور اس میں موحد ہونے کی کونسی بات ہے۔حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کوامن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔فرمایا کہ اگر نبی کو بھی ایک شخص نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے۔یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جو حکم اصل کا ہے وہ فرع کا بھی ہے۔خوب یا درکھو کہ جو شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا ہے تو جھوٹا ہے اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو۔( منصب خلافت انوار العلوم جلد ۲ صفه ۵۴،۵۳) اب میں نمائندگان شورای کے لئے جن اہم باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے ان کو خلاصہ پیش کرتا ہوں اور یہ باتیں عمومی طور پر احباب جماعت کے بھی علم میں ہونی چاہئیں۔ہو سکتا ہے کل کو یہ بھی ممبر مجلس شورای بن جائیں۔تو یہ باتیں حضرت مصلح موعودؓ نے نمائندگان شورای کو بیان فرمائی تھیں۔(خطاب حضرت خلیفة المسیح الثانی رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحه ۸ تا ۱۳) لیکن یہ آج بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی آج سے ۰۸ سال پہلے اہم تھیں اور ضروری تھیں اس لئے ان کو ہمیشہ اس لحاظ سے پیش نظر رکھنا چاہئے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ شورای میں جب شامل ہوں تو محض اللہ شامل ہوں۔یعنی جب رائے دیں تو یہ سوچ کر دیں کہ ہم نے اپنی آراء اللہ تعالیٰ کی خاطر دینی ہیں۔پھر یہ ہے کہ خالی الذھن ہو کر دعا سے شامل ہوں۔ذاتی باتوں کو دل سے نکال دیں، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شورای کے اجلاس کے دوران بھی دعاؤں میں مصروف رہیں اور دعاؤں میں لگے رہیں۔پھر یہ ہے کہ اپنی رائے منوانے کی نیت نہ ہو۔کسی کی رائے بھی مفید ہو سکتی ہے۔یہ نہیں ہے کہ جس طرح دنیا کی پارلیمنٹیں ، اسمبلیاں ہوتی ہیں وہاں بحث و تمحیص شروع ہو جاتی ہے۔بحث کرنے کا کوئی حق نہیں۔