خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 201

$2004 201 خطبات مسرور اصولی باتیں ہوئی ہیں ان پر عمل درآمد کرانے میں تعاون بھی کرے اور پوری ذمہ داری سے مقامی انتظامیہ کی مددبھی کرے۔گو فیصلہ سے ہٹی ہوئی بات دیکھ کر جو بھی شوری میں ہوئی ہو۔ممبران شوریٰ براہ راست تو مقامی انتظامیہ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے ورنہ اس طرح تو ایک ٹکر کی صورت پیدا ہو جائے گی لیکن ان کو توجہ ضرور دلا سکتے ہیں کہ یہ یہ فیصلے ہوئے تھے، اس طرح کا رروائی ہونی چاہئے تھی ، یہ ہماری جماعت میں نہیں ہو رہی۔اور جیسا کہ میں نے کہا توجہ کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کرانے کے لئے ان سے تعاون بھی کریں اور اگر دیکھیں کہ مقامی انتظامیہ پوری طرح جو شورای کے فیصلے ہوئے ان پر عمل نہیں کر رہی تو پھر نظام جماعت قائم ہے وہ مرکز کو توجہ دلا سکتے ہیں، خلیفہ وقت کو اس بارے میں لکھ سکتے ہیں۔تو یہ اطلاع دینا بھی ممبران شوری کا فرض ہوتا ہے کہ سارا سال جب تک وہ ہمبر ہیں ان معاملات پر عملدرآمد کرانے میں مدد کریں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے یعنی خلافت کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں، قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے۔وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ مجلس شورا ی کو قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو، پھر دعا کرو، جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ تو خلیفہ وقت کا یہ کام ہے کہ شوریٰ کے مشوروں کے بعد دعا کر کے فیصلہ کرے۔اور جب کوئی فیصلہ کر لے پھر اس پر قائم ہو جائے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔فرمایا کہ وہ خواہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو تو خدا تعالیٰ مدد کرے گا۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکل کرو گویا ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید و نصرت کرے گا۔اور یہ لوگ چاہتے ہیں ( یعنی جو لوگ چاہتے ہیں خلیفہ ان کی باتوں کے پیچھے چلے کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے) مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی رائے پر