خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 200

200 $2004 خطبات مسرور بلا لیتے کہ مشورہ کرنا ہے۔کسی جلسے کی تجویز ہوتی تو یاد فرمالیتے کوئی اشتہار شائع کرنا ہوتا تو مشورہ کے لئے طلب کر لیتے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ١٩٢٧ صفحه ١٤٤) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجلس شورای میں خلیفہ وقت کی حیثیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجلس شوریٰ ہو یا صدرانجمن احمد یہ خلیفہ کا مقام بہر حال دونوں کی سرداری ہے انتظامی لحاظ سے وہ صدرانجمن احمدیہ کا رہنما ہے اور آئین سازی اور بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوریٰ کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔(الفضل ۲۷ /اپریل ۱۹۳۸ء) تو اس اصول کے تحت تمام ممالک کی مجالس شوری کی رپورٹس خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوتی ہیں اور خلیفہ وقت جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کیونکہ ہر ملک کی مجلس شوری کی صدارت کرنا تو خلیفہ وقت کے لئے اب ممکن نہیں رہا کہ ہر ملک میں مجلس شوری ہو رہی ہو ، وہاں جائے اور صدارت کرے، خلیفہ وقت کسی کو اپنا نمائندہ مقررہ کرتا ہے جو صدارت کر رہا ہوتا ہے۔تو یہ بات بھی نمائندگان شوری کو یا د رکھنی چاہئے کہ جو بھی شوری کی کارروائی کی صدارت کر رہا ہو وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔پھر حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ : ” خلیفہ نے اپنے کام کے دو حصے کئے ہوئے ہیں، ایک حصہ انتظامی ہے، اس کے عہد یدار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔۔دوسرا حصہ خلیفہ کا کام اصولی ہے اس کے لئے وہ مجلس شوریٰ کا مشورہ لیتا ہے تو فرمایا کہ ” پس مجلس شوری اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے“۔(رپورٹ مجلس مشاورت (۱۹۳۰ء صفحه (٣٦) اس لئے نمائندگان شوریٰ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری شوری کے اجلاس کے بعد ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ایک دفعہ کا منتخب کردہ نمائندہ مجلس شوری پورے سال تک کے لئے نمائندہ ہی رہتا ہے تاکہ اصولی باتوں میں مدد کر سکے اور شوری کی کارروائی میں جو فیصلے ہوئے ہیں، جو