خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 195

$2004 195 خطبات مسرور یہ بھی فرض ہے کہ اس کے ذمہ وار بنیں۔حدیث میں آتا ہے حضرت ابو مسعود سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنْ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہوتا ہے یا اسے امین ہونا چاہئے۔(سنن ابن ماجه کتاب الادب باب المستشار موتمن) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جو شورای سے متعلق حصہ ہے وہ میں پڑھتا ہوں ) کہ جس سے اس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا اور اس نے بغیر رشد کے مشورہ دیا یعنی بغیر غور و خوض اور عقل استعمال کئے تو اس نے اس سے خیانت کی ہے۔(الادب المفرد از حضرت امام بخاری صفحه ٧٥) تو دیکھیں مشورہ دینے والوں پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ اگر بغیر غور کے جس مسئلہ کے بارے میں مشورہ مانگا جا رہا ہے اس کی جزئیات میں جائے بغیر اگر مجلس میں بیٹھے ہوئے ، یونہی سطحی سا مشورہ دے دیتے ہو کہ جان چھڑاؤ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے خواہ مخواہ وقت کا ضیاع ہے، کوئی ضرورت نہیں اس کی۔اگر اس سوچ کے ساتھ بیٹھے ہو کہ معاملے کو جلدی ختم کرنا چاہئے کیونکہ آخر کار یہ معاملہ خلیفہ وقت کے سامنے پیش ہونا ہے خود ہی وہ غور کر کے فیصلہ کر لے گا تو یہ خیانت ہے۔اور خائن کے بارے میں فرمایا کہ اس میں نفاق پایا جاتا ہے۔تو یہ جو حدیث ہے اس میں تو یہ فرمایا گیا کہ ایک مسلمان بھائی بھی اگر تمہارے سے مشورہ مانگے تو تب بھی غور کر کے پوری تفصیلات میں جا کر اس کو مشورہ دو۔جب جماعتی معاملے میں خلیفہ وقت کی طرف سے نظام کی طرف سے بلایا جائے کہ مشورہ دو تو اس میں دیکھیں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے۔مجلس شورای میں جب بھی مشورے کے لئے بلایا جاتا ہے تو ایک بہت بڑی ذمہ داری مجلس شوری پر ڈالی جاتی ہے ،ممبران شورای پر ڈالی جاتی ہے اور