خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 15

15 $2004 خطبات مسرور آتے ہیں بہت سارے بے شمار واقعات ہیں ان میں سے ہی یہ چند لئے گئے ہیں تو آپ کی زندگی کا تو لمحہ لمحہ عاجزی اور انکساری میں گزرا باوجود اس کے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کل عالم کے لئے نبی مبعوث فرمایا تھا اور آپ خاتم الانبیاء تھے۔کوئی نبی آپ کے بعد بجز آپ کی کچی اتباع کے اور اطاعت کے آنہیں سکتا۔اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے نظارے آپ ہر روز دیکھتے تھے لیکن پھر بھی عاجزی کی یہ انتہا تھی جس کی چند مثالیں میں نے دیں۔اب اس زمانے میں بھی دیکھیں آپ سے وفا اور غلامی کے طفیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس عاجزی کی وجہ سے جو آپ علیہ السلام نے اپنے آقا سے سیکھی تھی پیار کے جلوے دکھائے اور پھر آپ نے اپنی جماعت کو ان اسلوب اور طریقوں کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔جماعت احمدیہ کی اجتماعی ترقی ہو یا ہر احمدی کی انفرادی ترقی ہو اس کا راز اب عاجزی دکھانے میں اور عاجز رہنے میں ہی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاما بتایا ہے کہ ” تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔الهام ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء۔تذکر طبع چہارم صفحه ۵۹۵ ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بارہ میں فرماتے ہیں: خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سواے سننے والو! ان باتوں کو یا درکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔(اور ہم اللہ کے فضل سے ان کو پورا ہوتے بھی دیکھ رہے ہیں۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔(روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۰،۴۰۹)