خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 189

189 $2004 خطبات مسرور تو اس زمانے میں ہم احمدیوں پر عدل اور انصاف کو قائم رکھنے کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم اس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہم نے زمانے کے امام کو پہچانا اور اس کی بیعت میں شامل ہوئے۔وہ امام جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم اور عدل کہا ہے جہاں وہ امام ان خصوصیات کا حامل ہوگا وہاں اس کے ماننے والوں سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عدل کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن مریم حکم اور عدل بن کر ضرور نازل ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ٤٩٤ - بيروت)۔جو حضرت مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی ہے۔پھر ایک روایت ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر دنیا کی زندگی کا ایک دن بھی باقی ہو گا تو اللہ تعالیٰ ضرور میرے اہل بیت سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ پہلے ظلم وجور سے بھری ہوگی۔(ابو داؤد کتاب الفتن اول كتاب المهدی) یعنی امام مہدی کا آنا بہر حال ضروری ہے اور قیامت سے پہلے اس نے آنا ہے چاہے قیامت کو ایک دن بھی رہ جائے تو وہ مبعوث ہو گا اس کے بعد یہ سب کچھ ہو گا۔ہم لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے امام مہدی کو دیکھا، پہچانا اور اس کی جماعت میں شامل ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورے ہوتے دیکھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب دور مسیح موعود آ گیا ہے۔اب بہر حال خدا تعالیٰ آسمان سے ایسے اسباب پیدا کر دے گا جیسا کہ زمین ظلم اور ناحق خونریزی سے پر تھی اب عدل، امن اور صلح کاری سے پُر ہو جائے گی اور مبارک وہ امیر اور بادشاہ ہیں جو اس سے کچھ حصہ لیں۔( گورنمنٹ انگریزی اور جهاد روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه (۱۹)