خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 177

$2004 177 خطبات مسرور سکتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہوگا۔نیز یہ بھی فرمایا انعام کا چیلنج دیا اور عیسائیوں کو للکارا کہ جس طرح سچ بولنے اور انصاف پر قائم رہنے کی تلقین قرآن کریم میں ہے، عیسائی اگر انجیل میں سے دکھا دیں تو ایک بڑی رقم آپ نے فرمایا میں انعام کے طور پر پیش کروں گا۔لیکن کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ مقابلے میں آئے تو یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی اس نے توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہمیں قرآن کریم کی چھپی ہوئی حکمت کی باتوں اور براہین کا ہمیں ہتھیار دیا۔لیکن یہ ہتھیار صرف غیروں کے منہ بند کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حسین تعلیم ہے اس کو ہم نے اپنے اوپر لاگو کرنا ہے، اگر اپنے گھر کی سطح پر ، اپنے محلہ کی سطح پر اپنے ماحول میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا یہ عدل کا نظام قائم نہ کیا تو ہمارے دنیا کی رہنمائی کے تمام دعوے کھوکھلے ہوں گے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیشہ پیش نظر رہے کہ جو گواہی بھی دینی ہے۔جس طرح انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا حکم ہے وہ صرف اس صورت میں پورے ہو سکتے ہیں کہ جب دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہو۔جب یہ پتہ ہو کہ ایک خدا ہے جو میری ظاہری اور پوشیدہ اور چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔جس کو میرے موجودہ فعل کی بھی خبر ہے اور جو میں نے آئندہ کرنا ہے اس کی بھی خبر رکھتا ہے۔جب اس سوچ کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقویٰ میں بھی ترقی ہوگی اور جب تقویٰ میں ترقی ہوگی تو پھر عدل کو قائم رکھنے کے لئے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ اپنے یا اپنے والدین کے خلاف یا اپنے کسی دوسرے عزیز کے خلاف بھی کبھی گواہی دینے کی ضرورت پڑی تو گواہی دینے کی ہمت پیدا ہوگی اور توفیق ملے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔جب آپ نے اپنے والد کی طرف سے کئے گئے مقدمہ میں دوسرے کے حق میں گواہی دی