خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 164

$2004 164 خطبات مسرور جھگڑوں کو ختم کرو اور صلح کی فضا پیدا کرو“۔پھر فرمایا کہ یہ تمہیں حکم ہے کہ یہ یہ کرو لیکن اگر تم باز نہ آئے اور زمین میں فساد پیدا کرتے رہے تو یقینا تم خسارہ پانے والے ہو اور ایسے لوگ پھر عباد الرحمن نہیں ہوتے۔رحمن خدا کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جیسا کہ فرمایا ہے۔الَّذِيْنَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُوْنَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوْصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ۔أَوْلَئِكَ هُمُ الْخَسِرُوْنَ ﴾ (سورة البقره آیت۲۸) یعنی وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوطی کے ساتھ باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تعلقات کو کاٹ دیتے ہیں جن کا جوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔اب کن تعلقات کو اللہ تعالیٰ نے باندھنے کا حکم دیا ہے، جوڑنے کا حکم دیا ہے ان میں سے ایک تو یہی ہے جیسا کہ پہلے میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرو، اس کی عبادت کرو، ہمیشہ اس کے آگے جھکو اور چھوٹے سے چھوٹے رنگ میں بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔تمہاری نوکریاں تمہارے کا روبارہ تمہاری مصلحتیں اس کی عبادت سے تمہیں نہ روکیں۔اس کے علاوہ قرابت داروں سے، عزیزوں سے، دوستوں سے، ہمسایوں سے ایک تعلق پیدا کرو، ایسا مضبوط پیار اور محبت کا تعلق پیدا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔پھر کہا جا سکتا ہے کہ تم صلہ رحمی کرنے والے ہوا اور قطع رحمی کرنے والے نہیں ہو کیونکہ قطع رحمی کرنے والے آخر کار وہی ہوتے ہیں جو زمین میں فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں اور فساد پیدا کرنے والے خسارے میں ہیں گھانا پانے والے ہیں۔اب جس کے دل میں خوف خدا ہے وہ تو اس بات سے ہی کانپ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو خسارے کی وارنگ دی ہے لیکن بعض اس بات کو آسانی سے نہیں سمجھتے تو ان کے لئے مزید کھول کر فرما دیا کہ وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهِ وَيَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي