خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 159
$2004 159 خطبات مسرور عمل کرو۔اور تعلیم میں سے بھی ایک بہت اہم تعلیم اپنے عہد کو پورا کرنا ہے، اپنے وعدوں کا پاس رکھنا ہے۔تو قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں، مختلف حالات میں عہد کی جو صورتیں ہوسکتی ہیں ان پر روشنی ڈالی ہے۔فرماتا ہے کہ نیکیاں قائم کرنے کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد بھی ادا کرو اور ان کو ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد کو بھی پورا کرو اور بندوں سے کئے گئے معاہدوں اور وعدوں پر بھی عملدرآمد کرو۔امام رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ خداوند تعالیٰ کے اس حکم کے مشابہ ہے کہ یايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اَوْفُوْ بِالْعُقُودِ﴾ اور اس قول میں تمام عقد مثلاً عقد بیع ، عقد شرکت، عقدیمین ، عقد نظر، عقد صلح اور عقد نکاح وغیرہ سب شامل ہیں۔تو کہتے ہیں کہ خلاصہ یہ کہ اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ دوانسانوں کے درمیان جو بھی عقد ہو اور جو عہد قرار پائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے۔(تفسیر کبیر رازی جلد ٥ صفحه ٥٠٥) اب دیکھیں آج کل کیا ہوتا ہے۔بہت سے جھگڑے اس بات پر ہورہے ہوتے ہیں کہ فروخت کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز اتنی تعداد میں دی یا اگر زمین کا معاملہ ہے تو اتنا رقبہ دیا ہے اور معاہدے میں اتنا ہی لکھا ہوتا ہے لیکن اصل میں موقع پر کچھ اور ہوتا ہے۔اب بیچنے والا اپنے اس عمل کی وجہ سے اس سودے میں بد عہدی کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے اور جھگڑے ہوتے ہیں پھر جھگڑے قضا میں جاتے ہیں، عدالتوں اور پولیس میں جاتے ہیں، کیس بن رہے ہوتے ہیں ، تو ایک فریق تو بد عہدی کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے اور دوسرا بے صبری اور کم حوصلگی کا۔پھر جیسا کہ امام رازی نے لکھا ہے، کاروبار میں شراکت داریاں ہیں اس میں بھی عہد کی پابندی کی ضرورت ہے، معاہدے ہوتے ہیں جس جس کا جتنا جتنا حصہ ہو جتنا جتنا شیئر (Share) ہو اس کے مطابق کاروبار ہوگا۔پھر یہ کہ کس نے کیا کام کرنا ہے کس نے کتنا سرمایہ لگانا ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن اگر کسی فریق میں بھی کوئی