خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 149
$2004 149 خطبات مسرور اہتمام بھی کیا اور خاص طور پر دو بکرے ذبح کروائے اور بھون کر حضور کی خدمت میں بھجوائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آج کل جانور کم ہیں اس لئے حقیر سا تحفہ بھیج رہی ہوں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو د عادی اور عفو کا یہ سلوک دیکھیں کہ نہ صرف معاف کیا بلکہ اس کو دعا بھی دی۔کہ اے اللہ ہند کے بکریوں کے ریوڑ میں بہت برکت ڈال دے، چنانچہ اس دعا کے نتیجے میں بہت برکت پڑی اور اس سے بکریاں سنبھالی نہ جاتی تھیں۔(سیرۃ الحلبیہ جلد3 صفحه ٤٧٠٤٣ مطبوعه بيروت) کعب بن زهیر ایک مشہور عرب شاعر تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان خواتین کی عزت پر حملہ کرتے ہوئے گندے اشعار کہا کرتے تھے اس بنا پر رسول اللہ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔کعب کے بھائی نے اسے لکھا کہ مکہ فتح ہو چکا ہے اس لئے تم آ کر رسول اللہ سے معافی مانگ لو، چنانچہ وہ مدینے آکر اپنے جاننے والے کے پاس آکر ٹھہرا اور فجر کی نماز نبی کریم کے ساتھ مسجد نبوی میں جا کر ادا کی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا تعارف کرائے بغیر یہ کہا کہ یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر تائب ہو کر آیا ہے اور معافی کا خواستگار ہے اگر اسے اجازت ہو تو اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔(آپ اس کو شکل سے نہیں پہچانتے تھے ) آپ نے فرمایا ہاں۔تو وہ کہنے لگا کہ میں ہی کعب بن زحیر ہوں یہ سنتے ہی ایک انصاری کیونکہ اس کے قتل کا حکم تھا اس کو قتل کرنے کے لئے اٹھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اب چھوڑ دو یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے۔پھر اس نے ایک قصیدہ آنحضرت کی خدمت میں پیش کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے اپنی چادر انعام کے طور پر اس کے اوپر ڈال دی اور اس اور اس طرح یہ دشمن بھی معافی کے ساتھ ساتھ انعام لے کر واپس آیا۔(السيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ٤٣) پھر عبد اللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں نہیں کیں ، ہر ایک جانتا ہے لیکن آپ نے اسے بھی معاف فرمایا، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اس