خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 145 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 145

$2004 145 خطبات مسرور بات کا جواب دیا۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا اور آپ مجلس سے تشریف لے گئے۔حضرت ابو بکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کی موجودگی میں مجھے برا بھلا کہ رہا تھا اور آپ بیٹھے مسکرا رہے تھے لیکن جب میں نے جواب دیا تو آپ غصے ہو گئے اس پر آپ نے فرمایا وہ گالی دے رہا تھا تم خاموش تھے تو خدا کا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا لیکن جب تم نے اس کو الٹ کر جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه (۱۷۷ اور جب شیطان آ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں بیٹھنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔یہ ہیں وہ معیار جو آپ نے اپنے صحابہ میں پیدا کئے اور پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہی ہیں وہ معیار جن کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آخرین میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر ایک روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمرو سے رسول اللہ کی توریت میں بیان فرمودہ علامت پوچھی گئی تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی تند خو اور سخت دل نہ ہوگا۔نہ بازاروں میں شور کر نے والا ، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے گا بلکہ عفو اور بخشش سے کام لے گا۔(بخاری کتاب البیوع باب كراهية الشعب فى السوق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے بلکہ آپ نے تو اپنے جانی دشمنوں تک کومعاف فرمایا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعدته صلى الله عليه وسلم للانام ۲۰ صفحه (۲۹ اب دیکھیں وہ یہودیہ جس نے گوشت میں زہر ملا کر آپ کو کھلانے کی کوشش کی تھی اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا بھی ، اس کا اثر بھی ہوا، بہر حال آپ نے اسے بھی معاف فرما دیا۔