خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 138

خطبات مسرور $2004 138 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾ (سورة ال عمران آیت : ۱۳۵) معاشرے میں جب برائیوں کا احساس مٹ جائے تو ایسے معاشرے میں رہنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہوتا ہے اور اپنے نفس کے بارے میں ، اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے اور دوسرے کی غلطی کو ذرا بھی معاف نہیں کرنا چاہتا، چنانچہ دیکھ لیں، آج کل کے معاشرے میں کسی سے ذراسی غلطی سرزد ہو جائے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے چاہے اپنے کسی قریبی عزیز سے ہی ہو اور بعض لوگ کبھی بھی اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اور اسی وجہ سے پھر خاوند بیوی کے جھگڑے، بہن بھائیوں کے جھگڑے، ہمسایوں کے جھگڑے، کاروبار میں حصہ داروں کے جھگڑے، زمینداروں کے جھگڑے ہوتے ہیں حتی کہ بعض دفعہ راہ چلتے نہ جان نہ پہچان ذراسی بات پہ جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک راہ گیر کا کندھارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ٹکرا گیا، کسی پر پاؤں پڑ گیا تو فوراً دوسرا آنکھیں سرخ کر کے کوئی نہ کوئی سخت بات اس سے کہ دیتا ہے پھر دوسرا بھی کیونکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہے، اس میں بھی برداشت نہیں ہے، وہ بھی اسی طرح کے الفاظ الٹا کے اس کو جواب دیتا ہے۔اور بعض دفعہ پھر بات بڑھتے بڑھتے سر پھٹول اور خون خرا بہ شروع ہو جاتا ہے۔پھر بچے کھیلتے کھیلتے لڑ پڑیں تو بڑے بھی بلاوجہ بیچ میں کود پڑتے ہیں اور پھر وہ حشر ایک دوسرے کا