خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 134

$2004 134 خطبات مسرور کیونکہ وہ تو ایک محدودقوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذارسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں لیکن اس کے مقابلے میں آنحضرت کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ ﷺ کی مخالف ہوگئی اور ایذا رسانی کے در پہ ہوئی اور عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ٥٣ الحكم ٢٤ و ٣٠ ستمبر ١٩٠٤) پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کے لئے بھی اسی قسم کی مشکلات ہیں جیسے آنحضرت ﷺ کے وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے۔چنا نچہ نئی اور سب سے پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معا دوست، رشتہ دار، اور برادری الگ ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بہن بھائی مخالف ہو جاتے ہیں۔السلام علیکم تک کے روادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنا نہیں چاہتے۔اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن یا درکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔تم انبیاء اور رسل سے زیادہ نہیں ہو، ان پر اس قسم کی مشکلات اور مصائب آئے اور یہ اسی لئے آتی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان قوی ہو اور پاک تبدیلی کا موقع ملے۔دعاؤں میں لگے رہو ، پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء اور رسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو تمہارا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔وہ دوست جو تمہیں قبول حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے۔ورنہ چاہئے تھا کہ تمہارے ساتھ ہوتا۔تمہیں چاہئے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ان سے دنگایا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کرو کہ:۔و اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں