خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 121
$2004 121 خطبات مسرور مشکل کو دور کرنے کی التجا کرتا ہوں۔میں نے کسی اور کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا۔یہ تکلیف یا پریشانی جو مجھے آئی ہے میری کسی غلطی کی وجہ سے آئی ہے یا میرے امتحان کے لئے آئی ہے میں اس کی وجہ سے تیرا نا فرمان نہیں ہوتا، نہ ہونا چاہتا ہوں، اس کو دور کرنے کے لئے میں کبھی بھی غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکتا۔بلکہ صبر سے اس کو برداشت تو کر رہا ہوں لیکن تجھ سے اے میرے پیارے خدا! میں التجا کرتا ہوں کہ مجھے اس سے نجات دے اور ساتھ ہی یہ بھی التجا کرتا ہوں کہ اس امتحان میں ، اس ابتلاء میں مجھے اپنے حضور میں ہی جھکائے رکھنا کبھی کسی غیر اللہ کے در پر جانے کی غلطی مجھ سے نہ ہو۔اور یہ صبر اور یہ تیرے در پہ جھکنا اے اللہ ! تیرے فضل سے ہی ہوسکتا ہے اور اسے اللہ اکبھی اپنے نافرمانوں میں سے مجھے نہ بنانا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ رویہ تمہارا ہو گا اور اس فکر اور کوشش سے تم میرے در پر آؤ گے تو میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پھر ایسے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اور ایسے ایسے راستوں سے اس کی مدد کرتا ہے جہاں تک انسان کی سوچ بھی نہیں جاسکتی۔حضرت مصلح موعودؓ نے صبر کے معانی اور اس کی کیا کیا صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے یہاں میں مختصراً کچھ عرض کر دیتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ صبر کے معنی کیا ہیں، الصبر صبر کے اصل معنی تو رکنے کے ہیں۔مگر اس لفظ کے استعمال کے لحاظ سے اس کے مختلف معانی ہیں چنانچہ اس کے ایک معنی تَرْكُ الشَّكْوَى مِنْ الَمِ الْبَلْواى لِغَيْرِ اللهِ یعنی جب کوئی مصیبت اور ابتلاء وغیرہ انسان کو پہنچے اور اس سے تکلیف ہو تو خدا تعالیٰ کے سوا دوسروں کے پاس اس کی شکایت نہ کرنا صبر کہلاتا ہے، ہاں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی بے کسی کی شکایت کرتا ہے تو یہ صبر کے منافی نہیں چنانچہ لغت کی کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے إِذَا دَعَا اللَّهَ الْعَبْدُ فِي كَشْفِ الضُّرَعَنْهُ لَا يُقْدَحُ فِي صَبْرِهِ جب بندہ خدا تعالیٰ سے اپنی مصیبت کے دور کرنے کے لئے دعا کرتا ہے تو اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس نے بے