خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 113

113 $2004 خطبات مسرور دوسرے شخص کی امانت جو اس کے پاس جمع تھی لے کر کہیں چلا گیا ہے۔اس پر فرمایا: ادائے قرضہ اور امانت کی واپسی میں بہت کم لوگ صادق نکلتے ہیں اور لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالانکہ یہ نہایت ضروری امر ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرضہ ہوتا تھا۔دیکھا جاتا ہے کہ جس التجا اور خلوص کے ساتھ لوگ قرض لیتے ہیں اسی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ واپس نہیں کرتے بلکہ واپسی کے وقت ضرور کچھ نہ کچھ تنگی ترشی واقع ہو جاتی ہے۔ایمان کی سچائی اسی سے پہچانی جاتی ہے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۶۵، بدر ۵ ستمبر ۱۹۰۷ء) تو احمدی کی پہچان تو یہ ہونی چاہئے کہ ایک تو قرض اتارنے میں جلدی کریں، دوسرے قرض دینے والے کے احسان مند ہوں کہ وہ ضرورت کے وقت ان کے کام آیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: د مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں، اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت ﷺ تو ایسے لوگوں کی نماز ( جنازہ) نہ پڑھتے تھے۔پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یادر کھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دُور بھاگنا چاہئے۔کیونکہ یہ امر الہی کے خلاف ہے جو اس نے اس آیت میں یعنی 66 إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) دیا ہے۔(ملفوظات جلد ٤ - صفحه ٦٠٧ الحكم ٢٤ جنورى ١٩٠٦ء) تو یہاں یہ بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ ایک تو یہ کہ قرض مقررہ میعاد کے اندر ادا کیا جائے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔اور اگر پتہ ہے کہ واپس نہیں کر سکتے کیونکہ وسائل ہی نہیں ہیں، اور غلط بیانی کر کے میعاد مقرر کر والی ہے تو پھر بہتر ہے کہ خائن بننے کی بجائے مدد مانگ لی جائے۔لیکن جھوٹ اور خیانت کے مرتکب نہیں ہونا چاہئے۔لیکن مدد مانگنے والوں کو بھی عادت نہیں بنا لینی چاہئے کیونکہ سوائے انتہائی اضطراری حالت کے اس طرح مدد مانگنا بھی منع ہے اور معیوب سمجھا گیا ہے۔اور