خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 110

$2004 110 خطبات مسرور یہ بھی ہوتا ہے کہ چندوں کی رقوم اکٹھی کرتے ہیں۔تو بہتر یہی ہے کہ ساتھ کے ساتھ جماعت کے اکاؤنٹ میں بھجوائی جاتی رہیں۔یہ نہیں کہ ایک لمبا عرصہ رقوم اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔اگر امیر نے یا مرکز نے نہیں پوچھا تو اس وقت تک فائدہ اٹھاتے رہے۔یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔اور اگر کبھی مرکز پوچھ لے تو کہہ دیا کہ ہم نے یہ رقم ادا کرنی تھی مگر بہانے بازی کی کہ یہ ہو گیا اس لئے ادا نہیں کر سکے۔تو غلط بیانی اور خیانت دونوں کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔شیطان چونکہ انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے چاہئیں اور ان سے بچنا چاہئے۔پھر یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے کام آؤ، ان کے حقوق ادا کرو۔پھر یہ بھی یاد رکھو کہ نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چھٹے رہو، نظام کی پوری پابندی کرو۔کسی بات پر اعتراض پیدا ہوتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ اعتراض انسان کو بہت دور تک لے جاتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ عہدے داروں سے بڑھ کر نظام تک اور پھر نظام سے بڑھ کر خلافت تک یہ اعتراض چلے جاتے ہیں۔اس لئے اگر یہ کرو گے تو یہ بھی خیانت ہے۔پھر میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہوگی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔(سنن ابی داود کتاب الادب باب في نقل الحديث اب میاں بیوی کے بہت سے جھگڑے ہیں، جو جماعت میں آتے ہیں، قضا میں آتے ہیں، خلع کے یا طلاق کے جھگڑے ہوتے ہیں اور طلاق ناپسندیدہ فعل ہے۔بہر حال اگر کسی وجہ سے مرد اور عورت میں نہیں بنی تو مرد کو حق ہے کہ وہ طلاق دے دے اور عورت کو حق ہے کہ وہ خلع لے لے۔اور بعض دفعہ بعض باتیں صلح کروانے والے کے سامنے بیان کرنی پڑتی ہیں۔اس حد تک تو موٹی موٹی باتیں بیان کرنا جائز ہے لیکن بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے علاوہ دیگر رشتہ