خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 940 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 940

940 $2004 خطبات مسرور رشتہ داریوں کے یا عزیز داریوں کے لڑکوں کے رشتوں کے لئے بھی نام اور فہرست اور کوائف نظام جماعت کو مہیا ہونے چاہئیں۔تبھی پھر لڑکیوں کے رشتے بھی ہو سکتے ہیں تا کہ آپس میں دیکھ کے طے کئے جاسکیں۔اس لئے والدین کے علاوہ لڑکوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ایک تو جماعت کے اندرلڑکیوں کا رشتہ طے کرنے کی کوشش کریں اور اگر اپنے عزیز رشتہ داروں میں نہیں ملتا تو جماعتی نظام کے تحت طے کرنے کی کوشش کریں۔اور پھر بعض لوگ خاندانوں اور ذاتوں اور شکلوں وغیرہ کے مسئلے میں الجھ جاتے ہیں۔تھوڑا سا میں نے پہلے بھی بتایا تھا اور پھر انکار کر دیتے ہیں۔پھر ان مسئلوں میں اس طرح الجھتے ہیں تو پھر لڑکیوں کے رشتے طے کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔تو یہ ذاتیں وغیرہ بھی اب چھوڑنی چاہئیں۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لئے یہ ذاتیں بنائی ہیں اور آجکل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگانا ہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کی کوئی سند نہیں۔حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقویٰ ہے تو پھر ان چیزوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ پر چلتے ہوئے رشتے قائم کرنے کی توفیق دے۔بچوں کے رشتے کروانے کی توفیق دے اور قرآنی حکم کے مطابق یتیموں، بیواؤں ہر ایک کے رشتے کروانے کی توفیق دے نظام جماعت کو بھی اور لوگوں کو بھی معاشرے کو بھی۔اور سب بچیاں جن کے والدین پریشان ہیں ان سب کی پریشانیاں دور فرمائے۔آمین